” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸
هود ۱۱ تذکیر القرآن ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عملِ صالح ہے۔ جو شخص ایمان ، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائیگا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کر کے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتا ہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع و بصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کر کے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع و بصر کو صحیح طور پر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقتِ واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا ۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں ۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ أَنْ لَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ میں تم کو کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ یہ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں تم پر ایک درد ناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں ۔ اس کی قوم کے سردار وں نے کہا، جنہوں نے انکار کیا تھا کہ ہم تو تم کو بس اپنے جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں۔ اور ہم نہیں دیکھتے کہ کوئی تمہارا تابع ہوا ہو سوائے ان کے جو ہم میں پست لوگ ہیں ، بے سمجھے بو جھے۔ اور ہم نہیں دیکھتے کہ تم کو ہمارے اوپر کچھ بڑائی حاصل ہو، بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا خیال کرتے ہیں ۲۵ - خدا کے جتنے پیغمبر آئے ، اسی لئے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ یہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیا ہے۔ یہاں اگرچہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں ۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے ۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہو گئے‘ ایسے لوگوں کے لئے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی ۔ وہ اس کے لئے نذیر مبین بن گئے۔ مگر
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues