Al-Risala · August 1983 · page 42

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲

آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکنِ انعام کے طور پر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔

موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے ۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتا ہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے ، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہو کر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرات ہی نہ کرے۔

وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحاً قَالَ يَقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ قَالُوا يَصَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَانِ أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ قَالَ يَقَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تزیدوننی غَيْرَ تَخْسِيرٍ اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا، اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے بنایا، اور اس میں تم کو آباد کیا۔ پس معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب قریب ہے ، قبول کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے صالح اس سے پہلے ہم کو تم سے امید تھی۔ کیا تم ہم کو ان کی عبادت سے روکتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ اور جس چیز کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہہ ہے اور ہم بڑے خلجان میں ہیں۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم، بتاؤ، اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت دی ہے تو مجھ کو خدا سے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں۔ پس تم کچھ نہیں بڑھاؤ گے میرا سوائے نقصان کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page