” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱
تذکیر القرآن
تر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے ۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے ، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی ۔
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ أَلَا بُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ اگر تم اعراض کرتے ہو تو میں نے تم کو وہ پیغام پہنچا دیا جس کو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا۔ اور میرا رب تمہاری جگہ تمہارے سوا کسی اور گروہ کو جانشیں (خلیفہ) بنائے گا۔ تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے۔ اور جب ہمارا حکم آپہنچا ، ہم نے اپنی رحمت سے بچا دیا ھود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے ۔ اور ہم نے ان کو ایک سخت عذاب سے بچا دیا۔ اور یہ عاد تھے کہ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا۔ اور اس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر سرکش اور مخالف کی بات کی اتباع کی۔ اور ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی اس دنیا میں اور قیامت کے دن ۔ سن لو ، عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سن لو ، دوری ہے عاد کے لئے جو ھود کی قوم تھی ۔ ٦٠ – ٥٧ جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں ، خدا بھی انہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طور پر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طور پر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کردئے جائیں گے ۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کر رہے تھے ۔
اس دنیا میں خدا نے ”استخلاف“ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر تمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues