اختلاف دشمن کا ہتھیار
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴
اختلاف دشمن کا ہتھیار
اسرائیل کے سابق وزیر جنگ موشے دایان (۱۹۸۱-۱۹۱۵) نے اپنی خود نوشت سوانح عمری (The Story of my life) میں لکھا تھا کہ غیر متحد عرب جو ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں ، اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ نہیں بن سکتے۔
The Arabs, disunited and at odds with one another over every issue, big and small, present no threat. اب ۱۹۸۳ کے نصف آخر میں خود فلسطینی تنظیم (الفتح) میں اختلاف اور باہمی ٹکراؤ شروع ہو گیا ہے ۔ لبنان میں فلسطینیوں کی ناکامی کے بعد ان کے ایک بڑے طبقہ میں یاسر عرفات کی قیادت پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ وہ ابو موسیٰ کے جھنڈے کے نیچے یاسر عرفات کو قیادت سے ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف یاسر عرفات قیادت کے منصب سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح فلسطینیوں میں دو گروہ بن گئے ہیں اور وہ آپس میں خوں ریز تصادم میں مصروف ہیں ۔
ان حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اسرائیل کے وزیر خارجہ نیز اک شامر (Yitzhak Shamir) کا قول نقل کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں یہ کہوں گا کہ یہ اسرائیل کے حق میں اچھا ہے کہ فلسطینی تنظیم کے درمیان اندرونی جھگڑے، علیحدگی اور تقسیم پائی جارہی ہے : I must say that it is good for Israel that there are domestic quarrels, breakups and divisions within the organization of the PLO. واشنگٹن پوسٹ نے مزید نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے محکمہ جنگ کے ایک افسر نے کہا کہ اسرائیل میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ لبنان کے شمالی اور مشرقی حصہ میں یاسر عرفات کے خلاف بڑھتی ہوئی بغاو ت کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر فلسطینی حملوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ اسرائیل کے محکمہ جنگ کے دوسرے افسر نے اس کے جواب میں کہا:
They are busy among themselves, and that is good for us. وہ لوگ خود اپنے درمیان مصروف ہیں اور یہ ہمارے لئے بہت اچھا ہے (گارڈین ، ۳ جولائی ۱۹۸۳) آپس میں لڑنا گویا اپنا دشمن آپ بننا ہے۔ یہ اس تخریبی کام کو خود اپنے ہاتھوں انجام دینا ہے جس کو دشمن اپنے ہاتھوں سے انجام دینا چاہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues