تاریخ سبق دیتی ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۵
تاریخ سبق دیتی ہے
مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ (۶۱۷ ھ)، اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ بھیانک واقعہ تھا۔ عجیب بات ہے کہ یہ حملہ عین اس زمانہ میں ہوا جب کہ مسلمانوں نے یورپ کی صلیبی اقوام پر فتح (۵۸۷ھ) حاصل کی تھی اور شاہ مصر صلاح الدین ایوبی کے تحت اپنی فوجی برتری کی شاندار روایات قائم کی تھیں۔ صلاح الدین ایوبی کی وفات (۵۸۹ھ) کے صرف ۲۵ سال بعد تاتاری قبائل کو کیسے یہ جرات ہوئی کہ وہ مسلم سلطنت پر حملہ کردیں۔
اس کا راز مسلمانوں کا آپس کا اختلاف تھا۔ اس زمانہ میں بغداد میں خلیفہ ناصر لدین اللہ کی حکومت تھی۔ خراسان میں خوارزم شاہ حکومت کرتا تھا۔ یہ دونوں مسلمان تھے۔ خوارزم شاہ اگر چہ ایک آزاد حکمراں تھا۔ تاہم آئینی طور پر وہ خلیفہ بغداد کے ماتحت تھا اور اس کے ملک میں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ خوارزم شاہ کے ذہن میں بغاوت کے خیالات پیدا ہوئے ۔ اس نے ۶۱۵ھ میں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھنا بند کر دیا اور اپنی سلطنت کو دریائے دجلہ تک وسیع کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔
خلیفہ ناصر لدین اللہ اس پر برہم ہو گیا۔ وہ اس وقت کوئی فوجی کارروائی کرنے کے موقف میں نہ تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی ہوشیاری کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ہم عصر مورخ کامل بن اثیر نے لکھا ہے کہ اس نے یہ تدبیر کی کہ چین کی سرحد پر بسنے والے تاتاریوں کو خوارزم شاہ کے خلاف اکسادیا۔ یہ وحشی قبائل چنگیز خاں کی قیادت میں اپنے علاقے سے نکلے اور خوارزم شاہ کی سلطنت (خراسان) میں گھس آئے۔ خوارزم شاہ نے مقابلہ میں شکست کھائی۔ وہ بھاگ کر طبرستان چلا گیا جہاں ۶۱۷ھ میں کسی مپرسی کی حالت میں مر گیا۔ خراسان اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے بعد تاتاریوں کا حوصلہ بڑھا۔ اس کے بعد وہ بغداد کی طرف بڑھے اور خود خلیفہ ناصر لدین اللہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تاتاریوں کو اگرچہ فوری طور پر بغداد پر قبضہ کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ تاہم سلطنت بغداد پر تاتاریوں کے مسلسل حملہ نے خلیفہ ناصر لدین اللہ کو اتنا پریشان کیا کہ اس کو سخت قسم کی پیچیش ہوگئی، جو مدت تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ خلیفہ نہایت کمزور ہو گیا اور اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔ اسی اندھے پن کی حالت میں ۶۲۲ ھ میں اس کا انتقال ہو گیا۔ دو مسلم قائدین جو ایک دوسرے کو قبر میں پہنچانا چاہتے تھے خود قبر میں پہنچ گئے۔ خوارزم شاہ خطبہ کی موقوفی کے دوسال بعد اور ناصر لدین اللہ حملہ کروانے کے چار سال بعد۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues