کیسی عجیب غفلت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۸
یہ تینوں کتابیں جن کا ذکر ہوا وہ اردو کتابیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 50 سال یا 100 سال پہلے کے ہندوستان میں یہ ممکن تھا کہ اردو زبان کو غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا جاسکے۔ کیسا عجیب اور کیسا قیمتی امکان تھا جس کو ہمارے تمام اصاجبِ اکابر نے بے فائدہ سیاست کی ہنگامہ آرائیوں میں کھودیا۔ قانونِ قدرت کے مطابق اس کی سزا ہمیں یہ ملی ہے کہ اب غیر مسلموں میں دین پہنچانے کے لئے ہمیں کئی اجنبی زبانوں میں اسلامی لٹریچر پڑھنا، ہم کر نا ضروری ہو گیا ہے اور اردو زبان کا یہ حال ہوا ہے کہ غیر مسلم تو در کنار اب خود مسلم نسلوں تک بھی اس کے ذریعہ دین کا پیغام پہنچانا ممکن یں۔ جو کام پہلے صرف ایک زبان کے ذریعہ ہو سکتا تھا اس کے لئے اب ہم کو کئی زبانوں کی ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کی جد و جہد کا کم از کم ایک نمایاں عنوان اردو رہا ہے۔ اردو کے خاتمہ کا مرثیہ پڑھنا ہمارے تمام لیڈروں کا مجبوب ترین مشغلہ ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب آزادی ہند سے پہلے ملک کی سب سے زیادہ عام زبان اردو تھی تو آزادی ہند کے بعد وہ یہاں اجنبی کیسے بن گئی۔
زبان ان چیزوں میں سے ہے جس کا تسلسل اگر تاریخ میں ایک بار قائم ہو جائے تو اس کو توڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تسلسل قائم ہونے کے بعد وہ خود اپنے زور پر قائم رہتی ہے۔ اس کے بعد کوئی بہت بڑا اجتماعی بھونچال ہی اس کو توڑ سکتا ہے۔ ورنہ عام حالات میں اس کا تسلسل تاریخ میں جاری رہے گا۔ وہ ختم نہیں ہو سکتا۔
ہندوستان میں اردو کے خاتمہ کے واحد ذمہ دار خود مسلمان ہیں۔ مسلمانوں نے اس ملک میں دو قومی سیاست چلائی اور اس کو اس اجتماعی بھونچال تک لے گئے جس کا دوسرا نام تقسیم ہے۔ تقسیم ملک کا بھونچال ہی دراصل وہ واقعہ ہے جس نے اردو کے تسلسل کو ہندوستان میں ختم کر دیا۔ اگر مسلمانوں کی احمقانہ سیاست سے یہ بھونچال پیش نہ آتا تو نا ممکن تھا کہ اس ملک میں اردو کا اس طرح خاتمہ ہو جائے جو آج ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔
اس کی ایک مثال ہندوستان کی فلمی صنعت ہے۔ ہندوستانی فلموں کی دنیا میں اردو زبان آج بھی زندہ ہے حب کہ ملک کے بقیہ حصہ میں وہ موت سے دوچار ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "فلم" کی حیثیت ہر ملک میں اور اسی طرح ہندوستان میں بھی، ایک جزیرہ کی ہے۔ فلم کی دنیا عام طور پر سیاسیات اور قومی ہنگاموں سے الگ الگ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی فلموں کے جزیرہ میں اردو آج بھی 'پہلے کی طرح‘ نہ زندہ ہے۔ حب کہ بقیہ ملک میں وہ اپنی سابقہ حیثیت کھو چکی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues