کیسی عجیب غفلت
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۷
کیسی عجیب غفلت
مولانا عبید اللہ سندھی (۱۹۴۴ء-۱۸۷۲ء) ایک نو مسلم تھے۔ وہ پنجاب کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے غیر معمولی ذہین تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام ” عبید اللہ “ اس لئے رکھا کہ وہ اس سلسلے میں سب سے پہلے جس کتاب سے متاثر ہوئے وہ ” تحفہ الہند “ تھی جس کے مصنف کا نام ” عبید اللہ “ ہے۔
اس کتاب میں اسلام کا تقابل دوسرے مذاہب سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ کتاب پڑھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سکھ مذہب اور ہندو دھرم سے غیر مطمئن ہو گئے۔ اس کتاب نے ان کے انور اسلام کی طرف ابتدائی رجحان پیدا کر دیا۔ تاہم ابھی وہ قطعی فیصلہ نہیں کر سکے تھے۔ بعد کو انہوں نے بتایا کہ ” میں سوچتا تھا کہ اسلام بت پرستی کے خلاف ہے۔ مگر مسلمان اپنے بزرگوں کی قبروں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں وہ بھی ایک طرح کی بت پرستی ہے “۔ یہ سوال ان کے لئے اسلام قبول کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔
اپنے دل کی یہ کھٹک انہوں نے کچھ مسلمانوں سے بیان کی۔ چنانچہ ایک مسلمان نے انہیں شاہ محمد اسماعیل شہید کی کتاب ” تقویۃ الایمان “ دی اور اس کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس کتاب کا موضوع شرک کی مختلف صورتوں کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ انہوں نے جب اس کتاب کو پڑھا تو ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اسلام تو توحید خالص کا دین ہے۔ انہوں نے جانا کہ مسلمانوں کی قبر پرستی مسلمانوں کے اپنے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ ورنہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ قبر پرستی کا بھی ویسا ہی مخالف ہے جیسا وہ بت پرستی کا مخالف ہے۔
ان دو کتابوں کے مطالعہ کے بعد ان کا نظریاتی سفر بڑی حد تک پورا ہو چکا تھا۔ تاہم آبائی مذہب کو چھوڑ کر نئے مذہب کی طرف بڑھنے کے لئے جس طاقت در محرک کی ضرورت ہے وہ ابھی ان کے اندر پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ کام ایک اور کتاب کے مطالعہ سے انجام پا گیا۔ یہ ” احوال الآخرت “ تھی۔ اس کتاب میں قیامت کی ہولناکی اور جنت دوزخ کی باتیں درج ہیں۔ پچھلی کتابوں کے مطالعہ سے اگر ان کا دماغ ہلا تھا تو آخری کتاب کے مطالعہ سے ان کا دل ہل گیا اورانہوں نے اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues