روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸
ہے ۔ یہ ٹکڑا ہے انسان کے اندر خیر اور شر (صحیح اور غلط) کا تصور۔
معلوم کائنات میں یہ صرف انسان کی انفرادی خصوصیت ہے کہ وہ کسی چیز کو صحیح سمجھتا ہے اور کسی چیز کو غلط ۔ حقیقت واقعہ کا اعتراف اس کے نزدیک سب سے بڑی نیکی ہے اور حقیقت واقعہ کا انکار اس کے نزدیک سب سے بڑی برائی اسی طرح امانت اور خیانت احسان مندی اور احسان فراموشی سچ اور جھوٹ‘ وعدہ خلافی اور بے وفائی، انصاف اور ظلم تواضع اور سرکشی، حق کی ادائیگی اور حق کی پامالی کے درمیان وہ فرق کرتا ہے۔ وہ ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھتا ہے۔ یہ واقعہ انسان کے معاملہ کو دوسری مخلوقات کے معاملہ سے الگ کر دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کامیابی اخلاقی معیار پر جانچی جائے گی جب کہ دوسری چیزوں کی کامیابی صرف مادی اعتبار سے دیکھی جاتی ہے۔
ہمارے جگسا پزل کا یہ آخری ٹکڑا ہماری تصویر کو بالکل مکمل کر دیتا ہے۔ اس کو ملانے کے بعد حیات انسانی کا جو کامل تصور بنتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان ہی واحد مخلوق ہے جس کے لئے اس کے پیدا کرنے والے نے خوشی اور لذت کو مقدر کیا ہے۔ مگر یہ خوشی اور لذت اس کو آج کی زندگی میں ملنے والی نہیں۔ یہ اس کو صرف کل کی زندگی میں ملے گی۔ تا ہم یہ لازوال نعمت ہر آدمی کو اپنے آپ نہیں مل جائے گی۔ اس کے لئے اسے ایک امتحان میں کامیاب ہونا پڑے گا۔ وہ یہ کہ آدمی آج کی زندگی میں اس کے واقعی استحقاق کا ثبوت دے۔ وہ انکار حق سے بچے اور اقرار حق کی میزان پر پورا اترے۔ وہ غلط روش کو چھوڑے اور صحیح روش کو اختیار کرے۔ وہ وقتی سطح پر جینے کے بجائے ابدیت کی سطح پر جئے ۔ وہ صرف آج والا بن کر رہنے کے بجائے کل والا بن کر رہے ۔ جو شخص ایسا کرے گا وہ آنے والی کل کی زندگی میں کامل انسان کے روپ میں ظاہر ہوگا۔ وہ اس خوشی اور لذت کو ابدی طور پر پالے گا جس کا موجودہ زندگی میں اس نے صرف ابتدائی تعارف حاصل کیا تھا۔
مادی تہذیب وقتی دنیا کی تعمیر ہے اور روحانی تہذیب ابدی دنیا کی تعمیر۔ تا ہم دونوں دنیاؤں میں کامیابی کا ایک ہی اصول ہے۔ قدرت کے متفرق اشاروں کو پڑھ کر ان سے ایک کامل نقشہ بنانا۔ موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جن قوموں نے قدرت کے اشاروں کو نہیں پڑھا اور قدرت کے چھپے ہوئے مواقع کو اپنے حق میں استعمال نہیں کیا وہ پھیڑی ہوئی قومیں بن کر رہ گئیں۔ ان کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ وہ دوسری ترقی یافتہ قوموں کی سیاسی اور معاشی غلام بن کر رہ جائیں۔
اسی طرح آنے والی دنیا میں وہ لوگ کامیاب رہیں گے جنھوں نے اپنے اندر روحانی تہذیب کی تشکیل کی اور وہ لوگ برباد ہو کر رہ جائیں گے جو اپنے اندر روحانی تہذیب کی تشکیل نہ کر سکے۔ ہماری موجودہ زندگی ہماری اگلی زندگی کا تعارف ہے۔ انسان کا آج کا انجام اس کے کل کے انجام کو بتا رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues