روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۷
اور لذّت کے احساسات اگرچہ صرف انسان کو ملے ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں کوئی انسان ان کو پورے طور پر حاصل کرنے پر قادر نہیں۔ یہاں کی محدودیتیں (Limitations) فیصلہ کن طور پر انسان کی راہ میں حائل ہیں۔ بیماری، حادثہ، بڑھاپا، موت اور اسی طرح اپنے اندر اور باہر کی دوسری کمیاں ہماری دنیا کی زندگی کو بے مسرت اور بے لذت کر دیتی ہیں۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں ان کو ہم موجودہ دنیا میں حاصل نہیں کر پاتے۔
یہاں پہنچ کر جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو ایک اور اشاراتی ٹکڑا ہمارے ہاتھ آتا ہے۔ اور وہ انسان کی یہ خصوصیت ہے کہ تمام معلوم چیزوں میں وہی ایک ایسی مخلوق ہے جو کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ سورج آج ڈوبتا ہے اور کل طلوع ہوتا ہے۔ مگر سورج کو کل کا شعور نہیں۔ چیونٹی اگلے موسم کے لئے خوراک جمع کرتی ہے اور بیا اپنی آئندہ نسل کے لئے گھونسلے بناتا ہے۔ مگر چیونٹی یا بیا یہ سب کچھ جبلت (Instinct) کے تحت کرتے ہیں نہ کہ ”کل“ کے تصور کے تحت۔
تمام موجودات میں ”کل“ کا تصور صرف انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کل کی کامیابی صرف انسان کے لئے خاص ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز ہم چاہتے ہیں اور اپنی محدودیتوں کی وجہ سے اس کو حاصل نہیں کر سکتے وہ ہمارے لئے کل کے دن بالفاظ دیگر مستقبل میں مقدر کی گئی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہم اپنی اس طلب کا صرف جزئی تعارف حاصل کرتے ہیں۔ اس کو ہم کا مل طور پر صرف کل کے دور میں پائیں گے۔
یہاں پہنچ کر ایک اور اشاراتی ٹکڑا ہماری رہنمائی کرتا ہے اور وہ نیند ہے۔ ہر آدمی پر نیند طاری ہوتی ہے۔ وہ بے خبر ہو کر سو جاتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ آدمی کا جسم ایک قسم کی موت کی آغوش میں ہوتا ہے اس کا ذہن دیار روح، پوری طرح زندہ ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن اس وقت بھی سوچتا ہے۔ وہ سفر کرتا ہے۔ وہ فیصلے کرتا ہے۔ گویا جسمانی موت کے باوجود انسان کا ذہنی وجود پوری طرح زندہ رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی نہ صرف کل کا تصور رکھتا ہے بلکہ وہ کل کے دن تک زندہ موجود بھی رہتا ہے۔ موت کے باوجود وہ ختم نہیں ہوتا۔ آدمی کی زندگی ایک ایسا تسلسل ہے جو ”آج“ سے لے کر ”کل“ تک چلا گیا ہے۔
اب ہماری تصویر حیات ایک حد تک پوری ہو چکی ہے۔ تاہم ایک چیز ابھی باقی ہے۔ وہ یہ کہ کل کا دن کس کے لئے کیا ہوگا اور کس کے لئے کیا نہیں ہوگا۔ یہاں جب ہم اپنی تلاش جاری کرتے ہیں تو دوبارہ ہم کو جگسا پزل کا ایک اور اشاراتی ٹکڑا ملتا ہے، جو ہماری تصویر کو مکمل کر دیتا
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues