Al-Risala · September 1983 · page 20

روحانی تہذیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰

قول و عمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول و عمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ "شقاق" کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لا يحملنكم معاد اتى على ترك الايمان فيصيبكم ما أصاب الكفار، القرطبی)

داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتا ہے۔ اس لئے اس کی ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑا اٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرات ان کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔

کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایسا آدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتا ہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

قَالَ يَاشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ قَالَ يَاقَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ وَيَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۖ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ انھوں نے کہا کہ اے شعیب! جو تم کہتے ہو اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے۔ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے۔ اور تم ہم پر کچھ بھاری نہیں۔ شعیب نے کہا کہ اے میری قوم! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ اور اللہ کو تم نے پس پشت ڈال دیا۔ بے شک میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور اے میری قوم! تم اپنے طریقہ پر کام کئے جاؤ اور میں اپنے طریقہ پر کرتا رہوں گا۔ جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے اوپر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ اور انتظار کرو، میں بھی تمہارےساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں ۹۳ - ۱۹ حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہا گیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات اس کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page