روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۱
تذکیر القرآن ہود 11 سانچہ بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔
قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہو سکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لئے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی۔ آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد و خرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔
اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (Gap) پیدا ہو گیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لئے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنارہا۔
" اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے " یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہو چکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اور حیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کر دیتے ۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو جائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لئے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شر پسند افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لئے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا ۖ وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴿٩٤﴾ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۗ أَلَا بُعْدًا لِمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ﴿۹۵﴾ اور جب ہمارا حکم آیا، ہم نے شعیب کو اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو کڑک نے پکڑ لیا۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ گویا کہ کبھی ان میں بسے ہی نہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues