Al-Risala · September 1983 · page 23

روحانی تہذیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

یہ تقابل ان کے لئے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لئے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہو کر حضرت موسیٰ کے ساتھ ہو جائیں۔

جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لئے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کےساتھ کردئے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا۔ جو خود اس کے لئے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خدا کی طرف سے مقدر کی جا چکی ہے۔

ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ ۝ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ ۝ یہ بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تم کو سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب تک قائم ہیں اور بعض مٹ گئیں۔ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ پھر جب تیرے رب کا حکم آگیا تو ان کے معبودان کے کچھ کام نہ آئے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے۔ اور انہوں نے ان کے حق میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں بڑھایا۔ ۱۰۱ - ۱۰۰ قدیم تاریخوں میں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھئے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوں اور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کر دی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑ دی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔

دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا۔ دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت ناپید ہوگئیں۔ البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد کئے گئے ہیں۔

ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھئے کہ کیوں ایسا ہوا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page