روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۲
تذکیر القرآن ھود ۱۱ تھے ۔ سنو ، پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو ۔ ۹۵ - ۹۳ حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انہیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوں نے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوں نے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی سر زمین سے نکال دیں گے ( الاعراف ۸۸) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے۔ وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا۔ جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہو گیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہو گئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِايَتِنَا وَسُلْطَنٍ مُّبِينٍ إِلَى فِرْعَوْنَ و ملاہ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ يُقَدُّمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيُّمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ وَأُتْبِعُوا فِي هَذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيُّمَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح سند کے ساتھ بھیجا، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پھر وہ فرعون کے حکم پر چلے حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔ قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے ہوگا اور ان کو آگ پر پہنچائے گا۔ اور کیسا بُرا گھاٹ ہے جس پر وہ پہنچیں گے۔ اور اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ کیسا بُرا انعام ہے جو اُن کو ملا۔ ۹۹-۹۶ حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔ انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طور پر بے ہیں کر دیا۔ بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کا کھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھا دیا۔ پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی ساز و سامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف یہ سرو سامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ و جلال۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues