روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶
تذکیر القرآن ہود ۱۱ قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں دئے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر کئے جائیں گے ۔ وہاں ہر ایک اپنی کار کردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرار کی وجہ لوگوں کا "شک" ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے ۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزار رہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروں کو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو۔ یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔
اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتا ہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لئے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیر حق پر چلنا اس لئے نہیں ہے کہ انھوں نے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پا کر اسے اختیار کر لیا۔ اس کا سبب در اصل رواج کی پیروی ہے نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔
اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلت امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لئے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اور ہر ایک سے وہ چھن جائے گا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کر رکھا تھا۔ وَلَقَدْ اَتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ * وَاِنَّ كُلًّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ اِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ * اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ پھر اس میں پھوٹ پڑ گئی۔ اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات نہ آچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔ اور ان کو اس میں شبہ ہے کہ وہ مطمئن نہیں ہونے دیتا اور یقیناً تیرا رب ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دے گا۔ وہ باخبر ہے اس سے جو وہ کر رہے ہیں۔ ۱۱۱-۱۱۰
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues