Al-Risala · September 1983 · page 27

روحانی تہذیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۷

"موتی کی کتاب میں اختلاف" کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہو گئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا فاختلف فِى ذَالِكَ الْكِتَابِ۔ فَكُذِّبَ بِهٖ بَعْضُهُمْ وَصُدِّقَ بِهٖ بَعْضُهُمْ، الطَّبَرِی)

جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسرے، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے ان کی سنجیدگی ان کے لئے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انہیں اختلاف رائے تک پہنچادے گی۔ یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورت حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔

فَاسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيْرٌ ۝ وَلَا تَرْكَنُوۡا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللَّهِ مِنْ اَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ ۝ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللیل ۙ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ ۚ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّكِرِينَ ۝ وَاصْبِرْ فَاِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ ۝ پس تم جمے رہو جیسا کہ حکم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمہارے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمہار اکوئی مددگار نہیں، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤگے اور نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں میں اور رات کے کچھ حصہ میں۔ بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لئے اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۱۵ - ۱۱۲ دعوت حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لئے بڑا نازک وقت ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page