روحانی تہذیب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹
تدبر القرآن ان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔
کسی قوم میں ایسے اہل خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دوسبب سے ہوتا ہے۔ یا تو پوری قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو۔ یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیں گے۔
مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہو جاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتاب خدا وندی کی زد میں آ جائے۔
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ ﴿۱۱۸﴾ إِلَّا مَّنْ رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبُّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴿۱(۱۱۹۔ ۱۱۸)﴾ اور اگر تیرا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے، سو ان کے جن پر تیرا رب رحم فرمائے۔ اور اس نے اسی لئے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور تیرے رب کی بات پوری ہوئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے اکٹھے بھر دوں گا ۱۹ - ۱۱۸ ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراط مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنا اور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کر کے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنا لیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلی روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خدا کی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی ہیں۔ اب خدا نے یہ منصوبہ اس لئے بنایا تا کہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہو گیا ہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی فطرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues