Al-Risala · September 1983 · page 28

روحانی تہذیب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن ہود ۱۱ ۔ اس وقت ان کے درمیان دو قسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخاطبین ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے پمیٹیں جن کے لئے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتا ہے کہ مخاطبین کے لئے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کر لی جائے۔ دعوت کے ان اجزا کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخالفین بگڑ جاتے ہیں۔

پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرنا ہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طور پر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہو سکتا۔

دعوت کی راہ میں جب بھی کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہئے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ اولوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۖ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَ كَانُوا مُجْرِمِينَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ) پس کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں ایسے اہل خیر ہوتے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے۔ ایسے تھوڑے سے لوگ نکلے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا۔ اور ظالم لوگ تو اسی عیش میں پڑے رہے جو انہیں ملا تھا اور وہ مجرم تھے۔ اور تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ اس کے باشندے سے اصلاح کرنے والے ہوں ۱۱۶ - یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتا ہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انہیں اس لئے دیا گیا تھا کہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے، وہ ان کے لئے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔

ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لئے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہئیں جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page