Al-Risala · January 1983 · page 42

دعا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲

اسباق سیرت قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے :

لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة تمھارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، لمن كان يرجوا الله واليوم الآخر وذکو ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کا اور آخرت کے دن الله كثيرا (الاحزاب (۲۱) کا امیدوار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے ۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کے لئے مکمل نمونہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ یہ نمونہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو ، جو اللہ اور آخرت کا امیدوار بن چکا ہو۔

گویا رسول کی زندگی کا نمونہ، پوری طرح موجود ہونے کے باوجود، اپنے آپ ہر آدمی کے لئے نمونہ نہیں بن جائے گا۔ وہ صرف اس بندہ خدا کے لئے نمونہ بنے گا جس نے اللہ کو اتنی گہرائی کے ساتھ پایا ہو کہ وہ اس کی یادوں میں سما جائے۔ اللہ جس کی تمناؤں کا سرمایہ بن چکا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرنے لگے اور آخرت کا انعام جس کی نظر میں اتنا اہم بن جائے کہ وہ دل و جان سے اس کا آرزو مند ہو۔

رسول کے اسوہ حسنہ کو پانے کے لئے یہ شرط کیوں لگائی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی حقیقت کے ادراک کے لئے اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا بشرط لازم ہے۔ خدا اور آخرت سے مذکورہ قسم کا تعلق ہونا آدمی کو خدا اور آخرت کی باتوں میں سنجیدہ بناتا ہے۔ یہی سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو صحیح نظر سے دیکھے اور اس سے مطلوبہ سبق لے سکے۔

اس مسئلہ کی وضاحت کے لئے ایک مثال لیجئے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من قتل دون ماله فهو شہید ۔ ومن قتل جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید دون دمه فهو شهید ومن قتل دون دینہ ہے۔ جو شخص اپنے خون کی حفاظت میں مارا جائے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page