Al-Risala · January 1983 · page 33

دعا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳

فہو شہید۔ ومن قتل دون اهله فهو شہید وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں مارا (ترندی، نسائی، ابو داؤد)

جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔

جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے، یہ حدیث "لڑنے" کے بارے میں نہیں ہے بلکہ "مارے جانے" کی صورت میں مومن کے انجام کو بتانے سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ جب بھی کہیں کوئی مال یا خون یا دین یا اہل و عیال کا مسئلہ پیش آئے، تم فوراً لڑ جاؤ، خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ تم قتل کر دیئے جاؤ۔ بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ مذکورہ اسباب سے کوئی شخص مومن کو قتل کر دے تو اس کا قتل قتل نہیں بلکہ شہادت ہوگا۔ گویا یہ حدیث اصلاً لڑائی پر اکسانے کے لئے نہیں ہے بلکہ قتل کر دئے جانے کی صورت میں شہادت کا درجہ پانے سے متعلق ہے۔

اب جو شخص دین کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کو اپنے ذاتی ذوق کے لئے رسول اللہ کا جواز مطلوب ہو وہ بس حدیث کے الفاظ کو لے لے گا اور اپنے نفسانی جھگڑوں اور قومی لڑائیوں کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے اس کو بطور دلیل پیش کرے گا۔ وہ کہے گا کہ اسلام آدمی کو مردانگی کی تعلیم دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ اپنے دین و ایمان ، جان و مال ، زمین و جائیداد ، بیوی بچوں اور خویش و اقارب کی حفاظت کے لئے لڑ جاؤ۔ اگر تم جیت گئے تو تم نے اپنا مقصد پالیا۔ اگر تم ہار گئے تو تم شہید ہوئے اور شہادت وہ رتبہ بلند ہے جو خوش قسمت انسانوں ہی کو ملتا ہے۔

مگر جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو وہ اس کو نہایت سنجیدہ ہو کر دیکھے گا۔ اس کی سنجیدگی اس کو اس سوال تک پہنچائے گی کہ جب مال اور خون اور دین اور خاندان کے دفاع میں لڑنا مرنا مطلوب ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کی برعکس مثالیں کیوں ہیں کہ آپ بہت سے مواقع پر صریع قلم کے باوجود صبر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں۔

۱۔ مثال کے طور پر ابن ہشام نے ابو عثمان النہدی کے حوالہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے : بلغنى ان صهيباً حين اراد الهجرة قال له مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت صہیب نے جب مکہ کفار قريش اتينـا صعد كا حقير افكثر مالك سے ہجرت کا ارادہ کیا تو کفار قریش نے ان سے کہا عند نا ویلغت الذى بلغت ثم تدرید ان تخرج کہ تم ہمارے یہاں آئے تو بالکل غریب تھے۔ پھر بمالك ونفسك، والله لا يكون ذلك . فقال تمھارے پاس یہاں بہت مال ہو گیا اور تم اس درجہ کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page