Al-Risala · September 1983 · page 31

تاریکی میں سفر

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۱

تاریکی میں سفر

لندن کے اخبار گارجین (۱۳ مارچ ۱۹۸۳) کے ایک تین کالمي مضمون کی سرخی ہے تاریکی میں ایک بہادرانہ سفر:

A brave journey through the dark.

یہ مضمون آرتھر کوئسلر (Arthur Koestler) کے بارہ میں ہے۔ آرتھر کوئسلر انگلستان کا ایک مشہور ادیب اور مفکر تھا۔ اس نے اور اس کی بیوی سنتھیا (Cynthia) نے مارچ ۱۹۸۳ میں اپنے لندن کے مکان میں خود کشی کرلی۔ موت کے وقت آرتھر کوئسلر کی عمر ۷۷ سال تھی۔

آرتھر کوئسلر بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔ اس کی ایک کتاب کا نام ہے ۔ دوپہر میں تاریکی (Darkness at Noon) یہ کتاب ۳۲ زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ کتاب کمیونزم کے خلاف ہے۔ اس میں مصنف نے دکھایا ہے کہ نام نہاد عوامی نظام میں بھی کس طرح انسان کے اوپر انسان کا ظلم جاری رہتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کا استغلال کرتا ہے۔

آرتھر کوئسلر کو ذاتی طور پر وہ تمام دنیوی چیزیں حاصل تھیں جن کی ایک انسان تمنا کرتا ہے۔ وہ مشہور عالم تھا۔ اپنے پیچھے اس نے چار لاکھ پونڈ چھوڑے ہیں جن کے بارہ میں اس نے وصیت کی کہ وہ ایک برطانی یونیورسٹی کو دے دیے جائیں جو اس رقم کو (Parapsychology) کی تحقیق میں لگائے۔ آرتھر کوئسلر نے کیوں خود کشی کر لی۔ اس کی وجہ اس کی مایوسی تھی۔ وہ دنیا میں بُرا ئیاں دیکھ کر بے حد پریشان تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان بُرائیوں کی کیا توجیہہ کرے۔ ۱۹۷۴ میں اس کے مقالات کا ایک مجموعہ چھپا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ تکنیکی ترقیوں اور اخلاقی سلوک کے درمیان بہت نمایاں قسم کی علامتی نابرابری پائی جاتی ہے:

There is a striking, symptomatic disparity between the growth-curves of technological achievement on the one hand and of ethical behaviour on the other. اس کے بعد وہ جدید تہذیب سے اپنی مایوسی کا اظہار ان لفظوں میں کرتا ہے کہ ہم دور سیاروں کے گرد گھومنے والے خلائی جہازوں کی حرکت کو کنٹرول کر سکتے ہیں مگر شمالی آئرلینڈ کے حالات پر کنٹرول کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page