A brave journey through the dark.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۲
جانور اپنی نوع کو ہلاک نہیں کرتے۔ مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس سوال کی تحقیق کرتے ہوئے آرتھر کوئسلر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کے مختلف حصوں میں از نت ار کے دوران عدم توازن (Imbalance) پیدا ہوگیا ہے۔ یہی عدم توازن مردم کشی کے بڑے بڑے واقعات کا اصل سبب ہے۔
تاہم یہ تحقیقات اس کو سکون نہ دے سکیں۔ وہ بالآخر اس رائے پر پہنچا کہ انسان کے لئے موجودہ حالات میں سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ خود کشی کرلے۔ اس کا آخری فلسفہ یہ تھا کہ موت اس شخص کے لئے قابل استقبال اور قدرتی ریلیف ہو سکتی ہے جس کا واحد بدل غم اور مصیبت ہو۔
آر تھر کو تسلر نے اپنے اس نظر یہ پر خود عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس دنیا سے الگ کر لیا جو نہ اس کی مرضی کے مطابق تھی اور نہ وہ اس کو بدلنے کی قدرت رکھتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ انسان ایک روشن فضا میں آنکھ کھولتا ہے پھر وہ موت کی اندھیری دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ ٹکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کے باوجود انسان کی اخلاقی ترقی ممکن نہ ہوسکی۔ اس نے دیکھا کہ آدمی خلا میں گھومنے والی مشین کو کنٹرول کر لیتا ہے۔ مگر انسان کو کنٹرول کرنا اس کے لئے ممکن نہیں۔ اس نے دیکھا کہ جانور تک اپنے ہم جنسوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ انسان اپنے سارے وسائل کو استعمال کر کے فلاحی نظام بناتا ہے مگر وہ نظام روشنی میں تاریکی کے ہم معنی ہو جاتا ہے۔ ان حالات نے اس کو مایوس کر دیا اور اس نے خود کشی کرلی۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے آخرت کا تصور نہ ہو تو اس کی زندگی کتنی بے معنی ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے ۔ آخرت کے بغیر یہ دنیا اتنی بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ایک حساس مفکر یہی کر سکتا ہے کہ وہ خود کشی کر لے تاکہ اس کے خیال کے مطابق اس کو موجودہ نا قابل فہم دنیا سے چھٹی مل جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues