جتنا دینا اتنا پانا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۵
جتنا دینا اتنا پانا
مسٹر سرجیت سنگھ لانبہ (پیدائش ۱۹۳۱) عکسی حافظہ (Photographic Memory) کے مالک ہیں، کسی چیز کو چند بار پڑھ لیں تو وہ ان کو یاد ہو جاتی ہے۔ ۱۲ جون ۱۹۸۳ کو وہ ہمارے دفتر میں آئے تو رسالہ کے کئی مضمون انھوں نے لفظ بلفظ زبانی سنا دئے۔
مسٹر لانبہ وزارت قانون میں ہیں اور دہلی میں کرتی نگر میں رہتے ہیں۔ وہ اقبال کے شیدائی ہیں۔ اقبالیات کے موضوع سے انھیں خاص دلچسپی ہے۔ اقبال کے ہزاروں اشعار ان کو زبانی یاد ہیں۔ اور اسی طرح ان کی زندگی کے حالات بھی۔
مسٹر سرجیت سنگھ لانبہ مئی ۱۹۸۳ میں پاکستان گئے۔ وہاں اقبالیات کے ماہر کی حیثیت سے ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ اس سلسلے میں ان کی ملاقات امیر حسین صاحب (لاہور) سے ہوئی۔ انھیں بھی اقبال کے اشعار کثرت سے یاد ہیں۔ انھوں نے مسٹر لانبہ کو چیلنج کیا اور کہا کہ اگر تم ثابت کر دو کہ تم کو مجھ سے زیادہ اقبال کے اشعار یاد ہیں تو میں اپنی ہار مان لوں گا اور تم کو پانچ ہزار روپے انعام دوں گا۔ مسٹر لانبہ نے کہا:
میں پچھلے دس سال سے شمع اقبال پر پروانے کی طرح رقص کر رہا ہوں۔ تم مجھ سے زیادہ اقبال کا کلام اسی وقت پیش کر سکتے ہو جب کہ تم نے پروانہ بن کر شمع اقبال پر مجھ سے زیادہ رقص کیا ہو۔ چنانچہ مسٹر سرجیت سنگھ لانبہ مقابلہ میں جیت گئے۔ امیر حسین صاحب اقبال کی جس نظم کا کوئی مصرعہ پڑھتے مسٹر لانبہ سلسلہ اس کے آگے کے اشعار سنانا شروع کر دیتے۔ اس کے برعکس جب مسٹر لانہ نے اقبال کا کوئی مصرعہ پڑھا تو وہ اس کے آگے زیادہ نہ سنا سکے۔
اقبالیات کے مقابلہ میں سرجیت سنگھ لانہ جیت گئے اور امیر حسین لاہوری ہار گئے ۔ کسی میدان میں کامیابی کی سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ اس میدان میں آدمی اپنے آپ کو وقف کر دے۔ زندگی کا ہر معاملہ گویا ایک شمع ہے۔ اور اس معاملہ میں وہی شخص سب سے زیادہ آگے بڑھے گا جو سب سے زیادہ اس شمع کے لئے تڑپا ہو، جس نے سب سے زیادہ اس شمع کے لئے رقص کیا ہو۔ زندگی لین دین کا سودا ہے۔ یہاں دینے والا پاتا ہے۔ اور اتنا ہی پاتا ہے جتنا اس نے دیا ہو۔ یہاں نہ دئے بغیر پانا ممکن ہے اور نہ یہی ممکن ہے کہ کوئی شخص کم دے کر زیادہ کا حصہ دار بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues