عقل کا استعمال
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴
عقل کا استعمال
ایک صاحب پرنٹنگ پریس کا کام کرتے تھے۔ انھوں نے دہلی کے ایک سفارت خانہ کو اپنے کام سے اتنا گرویدہ بنا لیا کہ لمبے عرصہ تک اس سفارت خانہ نے اپنا چھپائی کا کام ان کے سوا کسی دوسرے پریس کو نہیں دیا۔
کوئی شخص جب پریس میں چھپنے کے لئے کتاب دیتا ہے تو اصل کتاب چھپنے سے پہلے پریس اس کو اس کا پروف دکھاتا ہے۔ پروف عام طور پر معمولی ڈھنگ سے بڑے بڑے کاغذ پر ننکالے جاتے ہیں۔ اور منتشر اوراق کی صورت میں ناشر کو دے دئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ پروف اصل چھپی ہوئی کتاب کا نہایت ناقص نمونہ ہوتے ہیں۔ ان سے چھپائی کی صحت اور غلطی تو معلوم کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کتاب چھپنے کے بعد کیسی ہوگی۔
مذکورہ پریس کے مالک کو پہلی بار سفارت خانہ سے ایک کتاب چھاپنے کو ملی تو انھوں نے پروف پیش کرنے کا نیا انداز اختیار کیا۔ انھوں نے تمام اوراق باقاعدہ پریس میں چھاپ کر کالے ان کو عام طریقہ کے خلاف دونوں طرف چھاپا۔ اس طرح پوری کتاب کا ہر نام اچھے کاغذ پر چھاپ کر اس کو کتاب کی طرح موڑا اور اس کی جلد بندی کرا کے پوری کتاب کا ایک پیشگی نمونہ تیار کر دیا۔ انھوں نے پروف کے بجائے یہ کتاب سفارت خانہ کے سامنے پیش کی۔ سفارت خانہ کے ذمہ دار اس باقاعدگی کو دیکھ بہت خوش ہوئے اور اپنا چھپائی کا نام آدران کے حوالے کر دیا۔
چند سال کے بعد ایسا ہوا کہ کسی دوسرے پریس نے سفارت خانہ والوں سے کہا کہ جس پریس سے آپ چھپواتے ہیں وہ آپ سے زیادہ دام چارج کرتا ہے۔ آپ ہم کو اپنی فرمائش دیں ، ہم کم نرخ پر ویسی ہی کتاب چھاپ کر آپ کو دیں گے۔ سفارت خانہ والے اس کے کہنے میں آگئے اور آزمائشی طور پر ایک کتاب کی چھپائی کا کام اس کے حوالے کر دیا۔ کچھ دنوں بعد جب پریس کی طرف سے کتاب کے پروف آئے تو وہ عام قاعدہ کے مطابق معمولی کاغذ کے ایک پلندے کی صورت میں تھے۔ نیز زیادہ اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے چھپائی بھی ویسی نہ تھی جیسی اصل کتاب کی ہوتی ہے۔ یہ پروف جب سفارت خانہ کے ذمہ دار کے سامنے آئے تو وہ ان کو دیکھ بگڑ گیا۔ وہ سمجھا کہ کتاب کی چھپائی کا معیار بھی یہی ہوگا۔ اس نے اس کو نااہل سمجھ کر اس کو دیا ہوا آرڈر منسوخ کر دیا اور دوبارہ سابقہ پریس سے فرمائش کی کہ وہ اس کا کام کرے۔ اگر آپ کے اندر کوئی جوہر ہے تو اس کی قیمت بہرحال آپ کو مل کر رہے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues