Al-Risala · September 1983 · page 37

احسن تقویم

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۷

احسن تقویم

قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ (التین) میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو خدا نے احسن تقویم (بہترین ساخت) پر پیدا کیا ہے۔ مگر اس کے بعد خدائی نقشہ کے خلاف چلنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب سے نچلے مقام پر جا گرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کیا ہے اور دنیا میں اس کا امتحان کس اعتبار سے لیا جا رہا ہے۔ انسان اپنی پیدائیشی بناوٹ کے اعتبار سے جنت کا شہری ہے۔ وہ خدا کا وہی مطلوب انسان ہے جس کو وہ اپنی خصوصی نعمتوں کی دنیا میں بسانا چاہتا ہے۔ انسان عملاً وہی ہے جو اس کو ہونا چاہئے۔

پھر انسان کا امتحان کیا ہے۔ اس کا امتحان یہ ہے کہ دنیا میں آزادانہ ماحول پا کر وہ بگڑ نہ جائے۔ وہ اپنے آپ کو اسی حال میں بچا کر رکھے جس حال میں خدا نے اس کو ابتداءً پیدا کیا تھا۔ وہ اپنے شعور کو خدا کے تخلیقی نقشہ کا چوکیدار بنا لے۔

جو لوگ ایسا کریں کہ خدا نے جس شخصیت کے ساتھ انہیں پیدا کیا تھا اسی شخصیت کو لئے ہوئے وہ خدا تک پہنچیں، وہ خدا کی جنت کے باشندے قرار دئے جائیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ خدا کی بنائی ہوئی شخصیت کو محفوظ نہ رکھ سکیں وہ جنت میں بسنے کیلئے نااہل ٹھہریں گے۔ وہ کائناتی کوڑا خانہ میں پھینک دئے جائیں گے۔ مثال کے طور پر خدا کی تخلیق کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے انسان کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے (الاحزاب) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی اسکیم میں دو عملی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دو دل والا انسان خدا کی پسند کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اب جو شخص ایسا کرے کہ اپنے ذہن میں متضاد افکار کو جمع کرے ۔ مثلاً وہ ایک خدا کی بڑائی کا اقرار کرے اور اسی کے ساتھ وہ انسان کی بڑائی میں گم ہو۔ وہ ایسی زندگی گزارے جس میں اپنوں کے لئے کچھ ہو اور غیروں کے لئے کچھ۔ جہاں مفاد کا لالچ یا دباؤ کی مجبوری ہو وہاں وہ ایک رویہ اختیار کرے، اور جہاں مفاد یا دباؤ کا پہلو نہ ہو وہاں وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔

جس آدمی نے اپنے فکر و عمل کے لئے اس قسم کے دو معیار بنارکھے ہوں وہ گویا احسن تقویم پر قائم نہیں۔ وہ خدا کی امانت کا نگہبان نہ بن سکا۔ اس نے خدا کی دی ہوئی شخصیت کو داغدار کر لیا۔ ایسا آدمی قرآن کے الفاظ میں اسفل سافلین میں پھینک دیا جائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے آپ کو دو عملی اور تضاد فکری سے بچاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو، وہ گویا خدا کے یہاں وہی انسان لے کر پہنچا جو خدا نے اپنے منصوبہ کے تحت اسے دیا تھا، ایسا آدمی جنت کے باغوں میں داخل کر دیا جائے گا۔ کیونکہ خدا کے یہ ابدی باغ ایسے ہی لوگوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues

Printed page