کائناتى نشانیاں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸
کائناتى نشانیاں
عن ابن عباس قال اتت قريش اليهود فقالوا بم جاءكم موسى قالوا عصاه ويده بيضاء للناظرين و اتوا النصارى فقالوا كيف كان عيسى. قالوا كان يبرى الاكمه والابرص ويحيى الموتى فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا ادع الله ان يجعل لنا الصفا ذهباً فدعا ربه فنزلت هذه الآية (ان في خلق السموات والارض واختلاف الليل والنهار لايات لاولى الالباب) فليتفكروا فيها۔
تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول صفحه ۴۳۸ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد نزلت على الليلة آية ويل لمن قرأها ولم يتفكر فيها (ان فى خلق السماوات والارض الخ) البقره ۱۶۴ حضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ قریش یہود کے پاس آئے اور پوچھا کہ موسیٰ تمہارے پاس کیا معجزہ لے کر آئے انھوں نے کہا کہ اپنا عصا اور اپنا ہاتھ جو دیکھنے والوں کو چمک دار نظر آتا تھا۔ پھر قریش نصاریٰ کے پاس آئے اور پوچھا کہ عیسیٰ کا معاملہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتے تھے اور مردہ کو زندہ کرتے تھے۔ پھر قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ خدا سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے صفا پہاڑ کو سونا بنا دے۔ پھر آپ نے اپنے رب سے دعا کی تو یہ آیت اتری : " بے شک آسمانوں اور زمینوں کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ " پس سوال کرنے والوں کو چاہئے کہ اس میں غور کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی رات میرے اوپر ایک ایسی آیت اتری ہے کہ خرابی ہے اس کی جو اس کو پڑھے اور اس میں غور نہ کرے ۔ وہ آیت یہ ہے : بے شک آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور جہازوں میں جو سمندر میں چلتے ہیں لوگوں کے نفع کی چیزیں لے کر اور پانی میں جس کو اللہ نے اوپر سے اتارا پھر اس سے زمین کو موت کے بعد زندہ کر دیا اور ہر قسم کے حیوانات اس میں پھیلا دئے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں جو زمین و آسمان کے درمیان مقید
‹ Previous page Next page › Contents of September 1983 All issues