دوست کی خاطر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲
دوست کی خاطر
اگر آپ کسی سفر پر جانے کے لئے، ہوائی اڈہ پہنچیں اور وہاں اپنے دوستوں سے ملنے میں بہت زیادہ دیر لگا دیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی پرواز کھو دیں۔ آپ ملاقات کی سیٹ پر لمبی بات چیت میں مشغول ہوں اور ہوائی جہاز کی روانگی کا وقت آجائے اور وہ آپ کو لئے بغیر اڑ جائے۔ لیکن اگر آپ کا "دوست‘‘ ملک کا حکمراں ہو تو صورت حال بالکل بدل جاتی ہے۔ ہندوستان کی حکمراں پارٹی کے دو ممبران پارلی منٹ مسٹر ارن نہرو اور مسٹر اودے سنگھ راؤ گائیکواڑ کیوبا گئے۔ وہاں ان کو کیوبا کی سالانہ تقریبات میں شرکت کرنا تھا۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۹ اگست ۱۹۸۳) کی رپورٹ کے مطابق تقریبات کی تکمیل کے بعد انھوں نے چاہا کہ کیوبا کے صدر ڈاکٹر فیڈل کیسٹرو (Dr. Fidel Castro) سے ملاقات کریں۔ انھوں نے صدر کے دفتر میں اپنی درخواست بھجوائی۔ دو دن کے انتظار کے بعد انھیں جواب ملا کہ صدر نے آپ دونوں کو آج رات کے کھانے پر مدعو کیا ہے۔ مگر ایم پی صاحبان نے محسوس کیا کہ وہ صدر کی اس عنایت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیوں کہ اسی دن شام کو ۵ بجے ان کا واپسی کا رزرویشن تھا۔ انھوں نے صدر کے دفتر میں معذرت کا پیغام بھیج دیا اور اپنے پروگرام کے مطابق ہوائی اڈہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ وہ لوگ ہوا نا ایئر پورٹ پر تھے کہ اچانک ڈاکٹر کیسٹرو بر آمد ہوئے۔ وہ اپنے "انڈین فرینڈس‘‘ سے ملنے کے لئے ہوائی اڈہ پہنچے تھے۔ انھوں نے دونوں ہندوستانی ایم پی سے پرجوش ملاقات کی اور وی آئی پی لاؤنج میں بیٹھ کر ان سے بے تکلف باتیں کرنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر کیسٹرو کے مترجم نے محسوس کیا کہ ایم پی صاحبان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ معزز صدر کی بات لمبی ہوتی جا رہی ہے اور گھڑی کے مطابق ہماری جہاز کی اڑان کا وقت ہو گیا ہے۔ مترجم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ مطمئن رہیں آپ کا جہاز اس وقت تک اڑان نہیں کرے گا جب تک ڈاکٹر کیسٹرو اس کو گرین سگنل نہ دے دیں :
Your plane will not take off until Dr. Castro gives the green signal. ہوائی اڈہ کے ذمہ داروں کے علم میں اگر یہ بات آجائے کہ ملک کا حکمراں ہوائی اڈہ کے انتظار گاہ میں اپنے دوست مسافر سے بات کر رہا ہے تو وہ خود ہی ہوائی جہاز کو اس کے سوار ہونے تک روکے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues