Al-Risala · October 1983 · page 5

فطرت کی خلاف ورزی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۵

مضمون نگار کے الفاظ میں یہ خنزیر کی بنیادی کمزوری (Fundamental Weakness) ہے۔ بکری اور گائے گھاس کو گوشت میں تبدیل کرتے ہیں۔ گویا جس چیز کو انسانی معدہ براہ راست ہضم نہیں کر سکتا اس کو خود کھا کر دودھ اور گوشت کی صورت دیتے ہیں اور ہمارے لئے کھانے کے قابل بناتے ہیں۔ مگر خنزیر کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ وہ خود انسان کی غذا (ڈبل روٹی وغیرہ) کھاتا ہے۔ اور وہ بھی اس طرح کہ ۵ پونڈ انسانی غذا کھا کر صرف ایک پونڈ گوشت انسان کو واپس کرتا ہے۔ خنزیر صرف یہ کرتا ہے کہ سستی خوراک کو مہنگی خوراک بنا دے :

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا انفجار ہے۔ حتی کہ وہ ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے۔

زمین انسانی آبادی ہندسی نسبت (Geometrical Progression) سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے اندازہ کے مطابق ۲۰۱۵ء میں دنیا کی موجودہ آبادی دگنا ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں خنزیر کا مستقبل، مضمون نگار کے نزدیک، اکیسویں صدی میں یہ نظر آتا ہے کہ ان کی بہت تھوڑی تعداد کو چھاچھ اور ٹکڑوں کی خوراک مل سکے گی۔ اور بقیہ تمام خنزیر پر غذائی اشیاء کی قلت کے سبب دوبارہ گندگی کھانے والے جانور (Scavenger) بن کر رہ جائیں گے۔

معلوم ہوا کہ خنزیریا تو گندگی کھاتا ہے یا انسانی خوراک۔ خنزیر کو خدا نے اس لئے بنایا تھا کہ وہ گندگی کو اپنی خوراک بنا کر "صفائی گرم چاری" کا کام انجام دے۔ مگر انسان نے اس کو اپنی خوراک بنایا اور اس کی خاطر جدید طرز کے بڑے بڑے فارم بنائے۔ قدرت کے نظام میں یہ مداخلت صرف اس قیمت پر ہوئی کہ انسان اپنی خوراک کا زیادہ حصہ اس کو کھلا کر اس سے اپنے لئے کم خوراک حاصل کرے ۔ خدا نے اپنی دنیا کا جو نظام بنایا ہے وہ حد درجہ حکمت پر مبنی ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں کی جامع رعایت ہے۔ انسان کے لئے واحد درست راستہ یہ ہے کہ وہ قدرت کے نظام کی پیروی کرے۔ جب بھی وہ اس نظام کے بدلنے کی شش کرے گا تو وہ صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اس کے بعد ماحول میں کوئی نئی خرابی پیدا ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page