Al-Risala · October 1983 · page 7

جہاد کے نام پر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۷

سراسر نا جائز ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے اوپر جزیہ لگانے کے ہم معنی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس علاقے کے مسلم عوام اس ٹیکس کے خلاف ہو گئے۔ خاص طور پر افغانی پٹھان بڑی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوئے جو پہلے سے انگریزوں سے بگڑے ہوئے تھے، کیونکہ انگریزوں نے ان کی افغان حکومت کو اس علاقے سے ختم کیا تھا۔ مفتی محمد عوض کے فتوے کے بعد مسلمانوں کے دبے ہوئے جذبات ابھر آئے۔ شہر بریلی میں زبردست ہڑتال کی گئی۔

مسٹر ڈمبلٹن اس وقت یہاں ضلع مجسٹریٹ تھے۔ مسٹر ڈمبلٹن نے چوکی داری ٹیکس کی وصولی کے لئے ۱۶؍ اپریل ۱۸۱۶ء کی قطعی تاریخ مقرر کر دی اور اس کا اعلان کرا دیا۔ جب یہ تاریخ آئی تو بریلی کے مسلم عوام بڑی تعداد میں مفتی محمد عوض کے مکان کے سامنے جمع ہو گئے۔ مفتی صاحب نے اس مجمع کی قیادت سنبھال لی۔ ان کو معلوم ہوا کہ انگریز مجسٹریٹ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف آرہا ہے۔ انھوں نے عوام کو ہدایت کی کہ انگریز مجسٹریٹ کو آگے بڑھنے سے روکیں اور اس کو یہاں نہ آنے دیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا وہی ہوا۔ انگریز مجسٹریٹ نے بھی آگے بڑھنے پر اصرار کیا جس کی وجہ سے انگریزی پولیس اور مفتی محمد عوض کے حامیوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ اس کا نقصان مفتی محمد عوض اور ان کے حامیوں کو پہنچا کیوں کہ ان کے پاس لاٹھی ڈنڈے کے سوا اور کوئی ہتھیار نہ تھا جب کہ انگریز پولیس بندوقوں سے مسلح تھی۔ اس نے مجمع پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ہلاک ہو گئے اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ تاہم مفتی محمد عوض نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے حسینی باغ (بریلی) میں مسلمانوں کو جمع کیا اور یہاں پر جوش تقرير کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی حکومت سے اسلام کو خطرہ ہے۔ اس لئے اس سے لڑنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اب اطراف کے علاقوں سے بھی لوگ آنے لگے اور چند دن کے اندر تقریبا پانچ ہزار روہیله پٹھان تلواروں اور آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مفتی محمد عوض کی سرداری میں جمع ہو گئے۔

انگریزوں نے مصالحت دکھائی اور گفت و شنید سے مسئلہ کو حل کرنا چاہا۔ مگر مفتی محمد عوض صاحب جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔ دوسری طرف بریلی، رامپور، پیلی بھیت، بجنور، بدایوں، شاہ جہاں پور تک کے پٹھان جہاد کا اعلان سن کر آتے رہے ۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد تقریباً ۱۵ ہزار ہو گئی۔ مفتی محمد عوض کے حوصلے اب بہت بڑھ گئے۔ انھوں نے صلح کے لئے انگریز مجسٹریٹ کے سامنے مندرجہ ذیل چار شرطیں پیش کیں۔

۱۔ چوکیداری ٹیکس کو منسوخ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page