جہاد کے نام پر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۸
بریلی کے انگریز کو توال کو ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اس کے اوپر شرعی سزا نافذ کریں۔
پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے وارثین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔
چوکیداری ٹیکس کے تمام مظاہرین کی عام معافی کا اعلان کیا جائے۔
انگریز حکومت تمام شرطوں کو مان سکتی تھی۔ مگر وہ دوسری شرط کو کسی قیمت پر نہیں مان سکتی تھی۔ دوسری طرف مفتی محمد عیوض کے حامیوں کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ گفت و شنید کے دوران بھی وہ پرامن نہ رہے۔ عین اس زمانہ میں ان میں سے کچھ لوگوں نے ڈسٹرکٹ جج مسٹر کولیٹر کے لڑکے کو قتل کر دیا۔ بالآخر انگریز سپاہیوں کی بڑی تعداد نے ۱۸ اپریل ۱۸۱۶ کو مفتی محمد عیوض کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔ سخت جنگ ہوئی مگر انگریزی بندوقوں کے مقابلہ میں روہیلے افغانوں کے روایتی ہتھیاروں نے شکست کھائی۔ تقریباً تین سو روہیلے جان سے مارے گئے۔ اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد روہیلے افغانوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ وہ میدان چھوڑ کر بھاگے۔ مفتی محمد عیوض کا تیاری کے بغیر جہاد ایک ہی دن کے مقابلہ میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مفتی محمد عیوض بریلی چھوڑ کر رامپور چلے گئے جہاں صرف ایک سال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ _______ چوکیداری ٹیکس کو برداشت نہ کرنے والا بالآخر ملت کو اس سے بہت زیادہ بڑی بربادی کے حوالے کر کے اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کی بے معنی لڑائیاں جو ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے ملت کے اندر جاری ہیں وہ ہرگز جہاد نہیں ہیں۔ یہ جہاد کے نام پر اپنے جان و مال کو ضائع کرنا ہے۔
جہاد دراصل اللہ کی راہ میں کوشش کرنا ہے۔ اور اللہ کا کام دعوت الی اللہ ہے۔ اہل ایمان کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی تمام ممکن قوتوں کو دعوت الی اللہ کے میدان میں لگائیں۔ وہ دوسری قوموں کو ہدایت خداوندی کے راستہ پر لانے کی کوشش کریں۔ یہی اہل ایمان کا اصل جہاد ہے۔ مسلمانوں کو اس اصل جہاد کا صحیح احساس نہیں۔ اگر ان کو اس کا احساس ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کو اپنے لئے حرام سمجھ لیں۔ کیونکہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے سے داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ختم ہوتی ہے اور معتدل فضا کے بغیر کسی کو کوئی دعوت نہیں دی جا سکتی۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ چھوٹی چھوٹی ناخوشگواریوں کو برداشت کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ یقینی طور پر خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مدعو اقوام سے لڑ پڑنا اور اس کو جہاد بتانا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں ان کو بری الذمہ قرار نہیں دیتا۔ یہ یقینی طور پر نفسانیت ہے نہ کہ خدائی جہاد۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues