Al-Risala · January 1983 · page 45

دعا

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵

یا ابا جندل اصبر و احتسب فان اللہ اے ابو جندل ، صبر کرو، اللہ تمہارے لئے جا عل لك ولمن معك من المستضعفين اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لئے گنجائش فرجا و مخرجا (سيرة النبی لابن هشام، الجزء الثالث، صفحه ۳۷)

مذکورہ حدیث میں لڑنا اور شہید ہو جانا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر حضرت ابو جندل کو صبر و رضا کی نصیحت نہ فرماتے۔ بلکہ انہیں شہادت کا راستہ بتاتے اور خود بھی اپنے اصحاب سمیت قریش سے لڑ جاتے۔

۳۔ اسی حدیبیہ کا واقعہ ہے کہ قریش نے آپ کو روکا اور کہا کہ ہم اس سال آپ کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ اس پر راضی ہو کر واپس مدینہ چلے آئے۔ اور عمرہ کے لئے مکہ جانے پر اصرار نہیں کیا۔ حالانکہ یہ خالص دینی معاملہ تھا اور آپ خدائی بشارت کی بنیاد پر اپنے اصحاب کو لے کر زیارت حرم کے لئے جا رہے تھے۔ اگر مذکورہ حدیث میں دین کے لئے لڑ کر شہید ہونا مطلق معنوں میں ہو تو آپ کو چاہئے تھا کہ اسی سال عمرہ کرنے کے لئے اصرار کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں عمرہ ملے یا شہادت ۔

۴۔ مکہ میں عمار بن یا سر اور ان کے والدین بنو مخزوم کے غلام تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ بنو مخزوم کو ان کا اسلام لانا سخت نا پسند تھا۔ چنانچہ وہ ان کو عین دوپہر کے وقت صحرا میں لے جاتے اور تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر انہیں سخت عذاب دیتے۔ حتیٰ کہ عمار کی والدہ کو انہوں نے قتل کر دیا۔ ابن ہشام اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فیمر بھم رسول الله صلى الله عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ان کے پاس سے وسلم فیقول فيما بلغنی : صبرا آل یاسر گزرتے اور جیسا کہ مجھے روایت پہنچی ہے ان موعد كم الجنة (الجزء الاول صفحه ۳۴۲) سے کہتے: اے خاندان یا سر ، صبر کرو، تمھارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔

مذکورہ حدیث اگر مطلق معنوں میں ہو تو ایسا کہنا، نعوذ باللہ، بزدلی کی تعلیم دینا ہوگا۔ پھر تو آپ کو آل یاسر سے کہنا چاہئے تھا کہ تم لوگ لڑ کر شہید ہو جاؤ اور خود بھی اس مقدس جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ خواہ آل یا سر کو بچا سکیں یا اسی راہ میں شہادت کا درجہ حاصل کر لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page