معرفت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶
معرفت
ہندوستان کے مشہور سائنس داں ڈاکٹر سی۔ وی۔ رمن سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں نے جو چیزیں دریافت کی ہیں ان میں ان کا اپنا کوئی خاص کارنامہ نہیں۔ یہ دریافتیں زیادہ تر اتفاقات کے نتیجہ میں حاصل ہوئیں۔ ڈاکٹر رمن نے جواب دیا: ہاں ، مگر ایسا اتفاق صرف سائنس داں کو پیش آتا ہے ۔
دریافت دراصل ذہنی ترکیز (Concentration of Mind) کی قیمت ہے۔ جب آدمی کسی خاص موضوع پر اپنے ذہن کو پوری طرح لگا دیتا ہے تو اس موضوع کے بارہ میں اس کو خاص بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ سوتے جاگتے ہر وقت اس کا ذہن اسی کے اندر مشغول رہتا ہے۔ اس موضوع کی دنیا سے اس کا بے حد قریب فکری رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔
سائنسی دریافتیں اکثر اسی قسم کے ترکیز فکر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب ایک آدمی کسی چیز سے اتنا زیادہ اپنے کو متعلق کر لیتا ہے تو اس چیز کے بارہ میں اس کو خاص پہچان حاصل ہو جاتی ہے۔ ذرا سا اشارہ دیکھتے ہی وہ اس کی پوری بات کو پکڑ لیتا ہے۔ دریافت اکثر حالات میں جزر سے کل تک پہنچنے کا دوسرا نام ہوتی ہے ، اور اس قسم کا پہنچنا ہمیشہ اسی کے لئے ممکن ہوتا ہے جو پہلے سے اس موضوع میں لگا ہوا ہو اور اس کی بابت پوری آگہی رکھتا ہو۔
یہ بات جو سائنسی معرفت کے لئے صحیح ہے۔ یہی دینی معرفت کے لئے بھی درست ہے۔ خدا بھی آدمی کے لئے ایک دریافت ہے۔ مگر یہ دریافت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے۔ جس نے اپنے آپ کو خدا میں شامل کر رکھا ہو۔
جب آدمی اپنا ذہن خدا میں لگائے ہوئے ہو ۔ وہ خدا کی نظر سے دیکھتا ہو اور خدا کے کان سے سنتا ہو۔ وہ دوسری تمام باتوں سے اپنی توجہ ہٹا کر خدا کی طرف مائل ہو گیا ہو ، جب کوئی شخص اس قسم کی زندگی گزارے تو اس کو بار بار وہ اتفاقات پیش آتے ہیں جن کو معرفت کہا جاتا ہے۔ دنیا کی چیزوں کا مشاہدہ ، انسانی تاریخ کا مطالعہ ، اپنے حالات پر غور و فکر ہر چیز میں اس کا ذہن ، بار بار حقیقت اعلیٰ کی طرف منتقل ہوتا ہے ، وہ بار بار ربانی تجلیات کو پاتا رہتا ہے۔ خدا کی معرفت خدا میں جینے کی نقد قیمت ہے۔ یہ قیمت اسی کو ملے گی جو خدا میں جی رہا ہو۔ جو کسی اور چیز میں جئے وہ خدا کی معرفت کا رزق کبھی نہیں پا سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues