Al-Risala · October 1983 · page 47

Self will not accept not-self

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۷

بڑا سلف کیوں کر غیر سلف کو قبول کرے گا۔ مخلوق کی نفاست اپنے غیر ہم جنس کو قبول نہیں کرتی پھر پاک اور برتر خالق کس طرح اپنے غیر ہم جنس کو قبول کرنے پر راضی ہو جائے گا۔ ایک واقعہ اس معاملہ کی بہت اچھی وضاحت کرتا ہے۔ جولائی ۱۹۸۲ء میں ایک شخص رات کے وقت لندن کے بکنگھم پیلس میں گھسا اور ملکہ الزبتھ کی خواب گاہ تک پہنچ گیا۔ ملکہ الزبتھ اس وقت اپنے سونے کے کمرہ میں اکیلی تھیں۔ انہیں خطرہ لاحق ہوا۔ کیونکہ نووارد کے ہاتھ میں لوہے کا ایک ٹکڑا بھی تھا۔ ملکہ نے گھنٹی بجا کر حفاظتی دستہ کو بلانا چاہا مگر کسی وجہ سے گھنٹی نہیں بجی۔ اب ملکہ نے حاضر دماغی سے کام لیا اور نووارد سے سخت کلامی کرنے کے بجائے اس کو سگریٹ پیش کیا اور اس کو تفریحی باتوں میں مشغول رکھا۔ یہاں تک کہ حفاظتی عملہ کے لوگ آگئے اور آدمی گرفتار کر لیا گیا۔

یہ خبر جب لندن کے اخباروں میں چھپی تو عوام نے سوال کرنا شروع کیا کہ ملکہ الزبتھ اپنی خواب گاہ میں تنہا کیوں تھیں ۔ ملکہ کے شوہر جناب فلپ اس وقت کہاں تھے : Where was Philip بالآخر انکشاف ہوا کہ جناب فلپ نیند میں خراٹے لیتے ہیں۔ چونکہ ملکہ کو خراٹے کی آواز پسند نہیں، اس لئے ان کے شوہر فلپ رات کے وقت علیحدہ کمرہ میں سلائے جاتے ہیں۔ ان کو ملکہ کی خواب گاہ میں سونے کی اجازت نہیں ۔ گرافٹنگ کا معاملہ اگر یہ بتار ہتا کہ نیچر کس طرح غیر سلف کو قبول نہیں کرتی تو یہ دوسرا واقعہ بتا تا ہے کہ شعور کے نزدیک کس طرح غیر سلف نا قابل قبول رہتا ہے۔

کتاب پیتھالوجی کا مذکورہ جملہ (سلف غیر سلف کو قبول نہیں کرتا) میرے لئے زمانہ علالت کی ایک دلچسپ دریافت تھی ۔ جب میں اس کو مذکورہ بالا واقعہ کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہوں جو اس کو پانے کا سبب بنا تو اس دنیوی واقعہ میں مجھے ایک اخروی حقیقت نظر آنے لگتی ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں کچھ لمحات کے لئے خدا کے یہاں چلا گیا تھا اور وہاں سے اس کے بندوں کے لئے اس کا یہ پیغام لے کر لوٹا کہ __ سلف غیر سلف کو قبول نہیں کرے گا ۔ جس کو خدا کے پڑوس میں رہنے کی تمنا ہو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ خدائی اخلاقیات کو اختیار کرے ، وہ اپنے آپ کو خدائی مزاج کے مطابق بنائے ۔ ورنہ آخرت میں اس کو خدا کی دوری ملے گی نہ کہ خدا کا پڑوس۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page