تاریخ کا نوشتہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸
تاریخ کا نوشتہ
۲۶ اکتوبر ۱۹۶۷ء کو تہران کے قصر گلستاں میں ایک بے حد شاندار جشن منایا گیا۔ یہ سابق شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی تاج پوشی تھی۔ اس موقع پر جو غیر معمولی اہتمام کیا گیا اس کے اخراجات کی مقدار اربوں روپے تک پہنچتی ہے۔ اس زمانے میں راقم الحروف نے "شاہ ایران کی تاج پوشی" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں جشن کی مسرفانہ تفصیلات دیتے ہوئے آخر میں لکھا تھا ۔
"یہ شاہ قسم کے لوگ بھی حالات سے کتنا بے خبر ہوتے ہیں۔ وہ عوامی انقلاب کے آتش فشاں پہاڑ کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں ۔ اور ایسی حرکتیں کرتے ہیں جس سے اس آتش فشاں کو کچھ اور چنگاریاں حاصل ہو جائیں۔ اگر یہ لوگ دانشمند ہوتے تو ان جھوٹے مظاہروں میں سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے وہ عوام کو مطمئن کرنے کے لئے خرچ کرتے۔ اس طرح اگرچہ ان کے اصلی عیش اور اقتدار میں کمی نہ ہوتی مگر عوام کو خوش کر کے وہ اپنی شہنشاہیت کی عمر کو ضرور طویل کر سکتے تھے۔ عجیب بات ہے ۔ اس دنیا میں حقیقی فکر آخرت تو نایاب ہے ہی ، دانش مندانہ قسم کی دنیا پرستی بھی نایاب ہے۔ زیادہ تر لوگ بے سوچے سمجھے زندگی گزارتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اپنی بے شعوری کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں اس وقت انہیں ہوش آتا ہے۔ مگر اس وقت کا ہوش آنا کچھ کام نہیں دیتا " (مطبوعہ الجمعیۃ ویکلی ۳ نومبر ۱۹۶۷ء) مذکورہ تحریر کے تقریباً ساڑھے گیارہ سال بعد فروری ۱۹۷۹ء میں یہ واقعہ ہوا کہ رضا شاہ پہلوی کو اپنا اقتدار اور اپنا تمام جاہ و حشمت چھوڑ کر ایران سے جانا پڑا ۔ وہ نہایت مایوسی اور ناکامی کی حالت میں ایک مغربی اسپتال میں مرگئے۔
اس کے بعد ایران میں آیت اللہ خمینی کا دور شروع ہوا ۔ فروری ۱۹۷۹ء میں جب آیت اللہ خمینی چارٹرڈ ہوائی جہاز کے ذریعہ پیرس سے تہران پہنچے اور سارا ایران خمینی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ خمینی اسلام کے نام پر ایران میں برسر اقتدار آئے تھے۔ ساری دنیائے اسلام میں اس بات پر خوشی منائی گئی کہ آیت اللہ خمینی نے ایران میں اسلامی نظام قائم کر دیا ہے۔ تاہم اس معاملہ میں بھی راقم الحروف کی رائے عام لوگوں سے بالکل مختلف رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جدید حکمراں بھی بالآخر وہی ثابت ہوں گے جو ان سے پہلے کے حکمراں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues