Al-Risala · October 1983 · page 29

ذمہ دار کون

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹

ذمہ دار کون

انیسویں صدی کے وسط کا واقعہ ہے ۔ فرانس کے ایک مسیحی مسٹریون روش نے اسلام قبول کر لیا ۔ وہ امیر عبد القادر الجزائرى کے یہاں آیا اور امیر کے ہاتھ پر اسلام لایا ۔ اس کے بعد امیر عبد القادر الجزائری نے اس کو قربت دی ۔ اس کو اپنا مشیر خاص بنا لیا۔ کئی مہمات میں اس کو بھیجا ۔ اسی طرح اس کو جزیرہ عرب بھیجا جہاں اس نے حج ادا کیا۔ لیون روش کی شادی الجزائر کی ایک مسلمان خاتون سے ہوئی ۔ دونوں تقریباً ، اسال تک ایک ساتھ رہے ۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ فرانس کی فوجیں الجزائر میں داخل ہو گئیں۔ جنگ کے بعد بالآخر فرانس کو امیر عبد القادر الجزائری پر فتح حاصل ہوئی ۔ اس فتح کے بعد لیون روش فرانسیسی جنرل الدوک دوماں سے مل گیا اور کھلم کھلا اعلان کر دیا کہ میں نے اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ مسیحیت اختیار کر لی ہے ۔

یہ واقعہ لیون روش کی مسلمان بیوی کے لئے بہت اندوہناک تھا۔ اس نے کہا کہ اسلام نے اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کر دی ہے ۔ اور میں نہیں چاہتی کہ تیرے جیسا سانپ زندہ رہے اور لوگ مجھ کو تیری وجہ سے غیرت دلائیں۔ چنانچہ اس نے خنجر لے کر لیون کو قتل کر ڈالا ( الثقافتة العربية، طرابلس دسمبر ۱۹۸۲)

اس طرح کے ارتداد کے واقعات کو عام طور پر اس معنی میں لیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص محض منافقانہ طور پر اسلام میں داخل ہوا تھا۔ اور اپنا کام پورا کر کے اسلام سے نکل گیا۔ ممکن ہے کہ بعض ایسے واقعات بھی ہوں۔ مگر اس نظریہ کو ارتداد کے تمام واقعات پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر وہ ہیں جو کسی تبلیغی جدوجہد کے نتیجہ میں مسلمان نہیں ہوتے بلکہ اپنے آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ میں نے بہت سے نو مسلموں سے بات کرکے یہ اندازہ کیا ہے کہ ان کے اسلام کا سبب کوئی گہرا فکری انقلاب نہیں ہوتا ۔ یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے مذہب کے معاملہ میں متشدد اور مقمس نہیں ہوتے ۔ وہ کسی وقتی اور معمولی پسندیدگی کی بنا پر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ اب اگر ان کو خوش قسمتی سے موافق حالات مل گئے تو وہ دھیرے دھیرے اسلام میں پختہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا ابتدائی معمولی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page