معیاری خاتون
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۱
معیاری خاتون
روی البخاری ومسلم ان علیا سمع رسول الله صلى الله علیه وسلم یقول: خیر نسائهامریم بنت عمران وخیر نسائها خدیجة بنت خویلد بخاری ومسلم نے حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ان کی سب سے بہتر خاتون مریم بنت عمران تھیں۔ اور ان کی سب سے بہتر خاتون خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ فتح الباری میں طیبی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ الضمیر الاول راجع الی الامۃ التی کانت فیھا مریم والثانی الی ھذہ الامۃ۔ یعنی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم امت یہود کی سب سے بہتر خاتون تھیں اور حضرت خدیجہ امت مسلمہ کی سب سے بہتر خاتون ہیں۔ یہ افضلیت کیوں تھی، اس پر مندرجہ ذیل دو احادیث سے روشنی پڑتی ہے : روى البخاری ومسلم عن عائشة انها قالت:
ما غرت على نساء النبی صلی الله عليه وسلم الا على خديجة ، وإني لم ادركها ، قالت: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذبح الشاة فيقول ارسلوا بها الى اصدقاء خديجة ، قالت فاغضبته يوما فقلت خدیجۃ: ! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم انی قد رزقت حبها روى احمد والطبرانی من طریق مسروق عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يكاد يخرج من البيت حتی يذكر خديجة فيحسن الثناء عليها فذكرها يوما من الايام فاخذتنى الغيرة فقلت هل كانت الا عجوزا قد ابدلك الله خيرا منها۔ فغضب ثم قال لا والله ما ابدلنى الله خيرا منها ۔ آمنت اذ كفر الناس وصدقتنی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں مجھے خدیجہ کے سوا کسی کے اوپر غیرت نہیں آئی۔ حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں پایا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ اس میں سے خدیجہ کی دوستوں کو بھیج دو۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک روز مجھے اس پر غصہ آگیا اور میں نے کہا خدیجہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ کی محبت مجھے پلا دی گئی ہے ۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کی تعریف کئے بغیر گھر سے نہ نکلتے تھے۔ ایک روز آپ نے خدیجہ کا ذکر فرمایا تو مجھے غیرت آگئی۔ میں نے کہا وہ ایک بڑھیا ہی تو تھیں اور اللہ نے اس کے بدلے آپ کو زیادہ بہتر دیدیا ہے۔ آپ غضب ناک ہوگئے اور فرمایا۔ خدا کی قسم نہیں ، خدا نے مجھے خدیجہ سے بہتر نہیں دیا۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues