معیاری خاتون
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۲
اذ کذ بنی الناس و استنی بھا لما اذ حرم منی الناس ایمان لائیں جب کہ لوگوں نے انکار کیا۔ اوں نے میری و رزقنی اللہ منھا الولد دون غیرھا من النساء تصدیق کی جب کہ لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی جب کہ لوگوں نے مجھے محروم کیا۔ اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی جو دوسری بیویوں سے نہ دی۔
حضرت مریم اور حضرت خدیجہ کو تاریخ کی معیاری خواتین کی حیثیت کیوں حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن اللہ کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں ملا دیا۔
یہود کے آخری زمانہ میں ایک ایسی خاتون درکار تھیں جو حضرت مسیح جیسے معجزاتی پیغمبر کی ماں بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ قوم یہود کے آخری پیغمبر کو باپ کے بغیر پیدا کرے ۔ اس مقصد کے لئے ایسی خاتون درکار تھیں جن کی عصمت اور پاکبازی اتنی مسلم ہو کہ کسی کو ان کے بارہ میں ادنی شبہہ کی گنجائش نہ رہے۔ حضرت مریم نے اپنی غیر معمولی زندگی سے اس کا ثبوت دیا۔ اس لئے وہ حضرت مسیح کی ماں بنائے جانے کے لئے چن لی گئیں۔
اسی طرح آخری رسول کے حالات کے اعتبار سے ان کو ایسی خاتون کی ضرورت تھی جو اپنی زندگی اور اپنا اثاثہ پوری طرح پیغمبر کے حوالے کر دیں اور کبھی کسی بات پر نہ شکایت نہ کریں۔ حضرت خدیجہ کے افیازی اوصاف کی بنا پر خدا نے ان کو اس خدمت خاص کے لئے چن لیا۔ انہوں نے اپنی زندگی، اپنا اثاثہ، اپنا آرام و راحت، سب کچھ پیغمبر خدا کے لئے وقف کر دیا۔ سخت ترین مصائب کے باوجود کبھی امت نہ کیا۔ ان کی انہیں خصوصیات نے انہیں خدا کی نظر میں اس قابل بنایا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کی رفیقہ حیات بنیں۔
اسلام کے مشن کے لئے ہر دور میں ایسی عورتوں اور ایسے مردوں کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ امتحانی دنیا میں زیر عمل لائے جانے والے خدائی منصوبہ میں اپنے آپ کو شامل کریں۔ جو خدا کے لاگ میں اپنا لاگ ملائیں ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے حد صبر آزما عمل ہے۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں خدا کی مدد کرنا کہا گیا ہے۔ پھر جس کو خدا اپنا مددگار ہونے کا اعزاز بخشے اس کے فضل و کمال کا کیا ٹھکانا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues