Al-Risala · October 1983 · page 36

حیدر آباد کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶

حیدر آباد کا چوتھا سفر (۱۲ - ۱۵ نومبر ۱۹۸۲) تھا جو حلقہ الرسالہ (اسلامی مرکز حیدر آباد) کی دعوت پر ہوا۔ اس سفر کی رو داد اگلے صفحات میں دی جارہی ہے۔

حیدر آباد کے لئے میرا پانچواں سفر مدرسہ سراج العلوم، محبوب نگر، حیدر آباد کی دعوت پر ہوا۔ اور چھٹا سفر مئی ۱۹۸۳ میں ہوا۔ یہ مقامی اسلامی مرکز کے بعض انتظامی امور کے تحت تھا ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ کو حیدر آباد جانے کے لئے میں پالم ایرپورٹ پہنچا تو وہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں اندر سیکورٹی چک میں داخل ہوا تو میرے پاس صرف ایک مختصر سا بیگ تھا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ میرے پاس کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے۔ میں نے اپنا بیگ میز پر رکھتے ہوئے انسپکٹر سے کہا ، " کیا اس کو کھولنا ہوگا " میز کے دوسرے طرف ایک سردار جی کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے میرا جملہ سن کر بڑے تیکھے انداز میں کہا :

Why not (کیوں نہیں) چنانچہ میں نے فوراً اپنا بیگ کھول دیا۔

سردار جی نے میرا بیگ الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں صرف ایک جوڑا کپڑا تھا اور تذکیر القرآن کی چار جلدیں ۔ انہوں نے ایک جلد اٹہائی اور اس کو کھول کر کہا ، " یہ قرآن ہے " میں نے کہا ہاں ۔ وہ اردو جانتے تھے۔ چنانچہ وہ اس کا ترجمہ پڑھنے لگے ۔ کچھ دیر کے بعد انہوں نے کہا کہ میں قرآن کا ترجمہ پڑھنا چاہتا ہوں ۔ مگر اس کا ترجمہ میرے پاس موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ اب تو میں حیدر آباد جارہا ہوں ۔ انشاء اللہ واپسی کے بعد میں آپ کو قرآن کا ترجمہ فراہم کردوں گا۔ میں نے ان کو " حیات طیبہ " کا ایک نسخہ دیا ۔ جس میں قرآن کی منتخب آیتوں کے ترجمے مختلف عنوانات کے تحت جمع کئے گئے ہیں ۔

ان کا پتہ لے کر میں آگے بڑھا تو میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ کیا وجہ تھی کہ وہی شخص جو چند لمحہ پہلے مجھ سے خشک اور بیزار لہجہ میں بول رہا تھا ، وہی چند لمحہ بعد شوق اور دلچسپی کے انداز میں بات کرنے لگا۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی۔ پہلے میں اس کے لئے " حامل بیگ " تھا ، بعد کو میں اس کے لئے " حامل قرآن " بن گیا۔ " بیگ " لے کر جو لوگ ہوائی اڈہ میں داخل ہوتے ہیں ان میں ھائی جیکر ہوتے ہیں جو بم لیکر چلتے ہیں ۔ ان میں اسمگلر ہوتے ہیں جو خلاف قانون چیزیں لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان میں حکومتوں کے باغی ہوتے ہیں جو حکومتوں کا تختہ الٹنے کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page