Al-Risala · October 1983 · page 37

حیدر آباد کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۷

منصوبہ لے کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہیں۔ جب میں چک کرنے والے آدمی کے سامنے حامل بیگ کے روپ میں تھا تو گویا میں ہائی جیکر، اسمگلر۔ اور قانون کے باغی کے روپ میں تھا۔ جب میں حامل قرآن کے روپ میں اس کے سامنے آیا تو میں اس کی نظر میں مذکورہ گروہ سے الگ ہو گیا ۔ اب میں ایک ایسا انسان تھا جو خدا کی سچی کتاب اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھا۔

یہ واقعہ علامتی طور پر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی صورت حال کو بتا رہا ہے ۔ ابھی تک وہ دنیا کے سامنے " حامل بیگ " بنے ہوئے ہیں اس لئے دنیا ان سے بیزار ہے۔ اگر وہ حامل قرآن کے روپ میں لوگوں کے سامنے آجائیں تو وہ دنیا والوں کے لئے دلچسپی اور محبت کا موضوع بن جائیں گے ، بشرطیکہ قرآن کی خود ساختہ تشریحات سے انہوں نے قرآن کی تصویر لوگوں کی نظر میں بگاڑ نہ دی ہو ۔

حیدر آباد کی آبادی لگ بھگ ۳۰ لاکھ ہے۔ اس میں مسلمانوں کا تناسب تقریبا چالیس فیصد ہے ۔ اکثر شہروں کی طرح حیدر آباد بھی دو حیدر آباد کا نام ہے۔ ایک پرانا حیدر آباد اور دوسرا نیا حیدر آباد ۔ پرانے حیدر آباد میں گھنی آبادی ہے۔ غریب اور جاہل طبقہ بھی اسی علاقہ میں بستا ہے ۔ اس کے برعکس نئے حیدر آباد میں کھلے مکانات ہیں ۔ یہاں زیادہ تر تعلیم یافتہ اور خوش حال طبقہ رہتا ہے ۔

حیدر آباد میں اکثر فرقہ وارانہ جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ، مگر یہ تمام جھگڑے پرانے حیدر آباد میں ہوتے ہیں ۔ نئے حیدر آباد میں آج تک کوئی فرقہ وارانہ جھگڑا نہیں ہوا ۔ اسی طرح کی تقسیم دوسرے شہروں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ جھگڑوں میں سب سے زیادہ دخل سماجی حالات کا ہے ۔ جو لوگ فسادات کے نام پر " مظلوم مسلمانوں " کے لفظی حامی بنے ہوئے ہیں ۔ انہیں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت درست کرنے کے لئے محنت کرنا چاہئے ۔ کیونکہ مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی حالت کو درست کرکے زیادہ بہتر طور پر فسادات کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔

حیدر آباد کی کچھ انفرادی خصوصیات ہیں جو ہندوستان کے کسی دوسرے شہر کو حاصل نہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ حیدر آباد میں کم از کم علاقائی سطح پر مسلمانوں کی ایک صحافت ہے ۔ یہاں اردو کے کئی اخبارات نکلتے ہیں جو یہاں کے مسلمانوں میں عام طور پر پڑھے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues

Printed page