Islam means realism
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵
پاتے کہ وہ ٹیکنیکل پرفیکشن کی حد تک صحیح صحیح اپنی ڈیوٹی انجام دینے لگے۔ اخبار کے صفحات میں سب سے زیادہ وہی چیز فلیش کرتی ہے جس کے اندر سب سے زیادہ نیوز ویلو ہو۔ سب سے زیادہ کامیاب پریس کانفرنس وہ ہوتی ہے جو کسی بڑے عوامی شو پر بلائی گئی ہو۔ ہم اس صورت حال کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ طبیعی علوم کی دنیا میں جو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر اختیار کیا جاتا ہے وہی حقیقت پسندانہ نقطہ نظر انسانی دنیا میں بھی اختیار کیا جائے۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق قرآن اسی طرز زندگی کا ہدایت نامہ ہے جو خدا کی طرف سے انسان کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو دین ساری کائنات کا دین ہے اسی دین کو انسان بھی اختیار کرے (افغیر دین اللہ یبغون وله اسلم من في السماوات والارض طوعا وکرھا) قرآن اور کائنات میں وہی نسبت ہے جو سائنس میں تھیوری (نظریہ) اور ڈماسٹریشن (مظاہرہ) کی ہوتی ہے۔ کائنات خدا کے جس دین پر عملاً چل رہی ہے ، قرآن اسی دین کا لٹرل اسٹیٹمنٹ (لفظی بیان) ہے۔
قرآن خدا کے وجود کی خبر دیتا ہے اور کائنات اپنی اعلیٰ ڈیزائن کے ساتھ تصدیق کرتی ہے کہ یقیناً یہ خبر صحیح ہے۔ قرآن انسان سے کہتا ہے کہ خدا کے آگے جھک جاؤ اور درخت کا سایہ زمین پر پڑ کر اور پتھر پہاڑ کے اوپر سے نیچے گر کر تمثیلی روپ میں کہتا ہے کہ یہی طریقہ صحیح ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کو چاہئے کہ وہ خدا کے حکم کا پابند بنے اور کائنات کی ہر چیز قدرت کے قانون کی مکمل پابندی کرکے اعلان کرتی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ اس دنیا میں ممکن نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اپنی تعمیر اس طرح کرو کہ دوسرے کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور سورج اور چاند اور تمام اجرام سماوی اپنے اپنے مدار میں گھوم کر بتاتے ہیں کہ یہ مطالبہ کس قدر درست ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہے جہاں آدمی کو اپنے کئے کا انجام پانا ہے۔ اور کائنات اپنی حد درجہ معنویت کے ساتھ گواہی دیتی ہے کہ زندگی کا خاتمہ اسی موجودہ دنیا پر نہیں ہو سکتا ، ضروری ہے کہ ایک اور دنیا آئے جہاں حق حق کی صورت میں اور باطل باطل کی صورت میں اپنی واقعی جگہ پاسکے ۔
اسلامی مرکز دہلی کا آغاز ۱۹۷۰ میں ہوا۔ یہ ایک خالص تعمیری مرکز ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ اسلام کو زندگی کی سائنس کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔ انسان کو بھی اسی حقیقت پسندی کے دین پر قائم کر دے جس حقیقت پسندی کے دین پر ساری کائنات قائم ہے۔ ایک لفظ میں ، ہم سائنس کو جبر ملزم بنا دینا چاہتے ہیں اور جبر ملزم کو سائنس۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues