Islam means realism
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵
دونوں شعبے ہیں ۔ سائنس اور جرنلزم۔ ۔ سائنس کا تعلق زیادہ تر طبیعی دنیا سے ہے اور جرنلزم کا تعلق زیادہ تر انسانی دنیا سے ۔ سائنس اگر کائناتی واقعات کا مطالعہ کرتی ہے تو جرنلزم انسانی واقعات کا۔ مگر عجیب بات ہے کہ دونوں میں سخت تضاد ہے ۔
سائنس مکمل طور پر ریلزم (حقیقت پسندی) کے اصول پر قائم ہے ۔ سائنس اس حقیقت واقعہ کو مان کر چلتی ہے کہ ہمارے باہر ایک دنیا ہے جو کامل طور پر خود اپنے محکم قوانین پر قائم ہے۔ مثلاً پانی کا ایک قانون ہے ۔ خشکی کا ایک قانون ہے ۔ فضا کا ایک قانون ہے ۔ پانی کے قانون سے مطابقت کرنے میں وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کا نام پانی کا جہاز ہے۔ زمین کے قوانین سے مطابقت کا نتیجہ موٹر کار ہے اور فضا کے قانون سے مطابقت کا نتیجہ ہوائی جہاز ۔ سائنس کی ہر کامیابی دراصل خارجی دنیا سے اسی مطابقت کامل کا دوسرا نام ہے ۔
مگر جرنلزم (بالفاظ دیگر انسانی دنیا) میں یہ معاملہ بالکل الٹا ہو جاتا ہے ۔ میں نے جرنلزم پر ایک کتاب پڑھی ۔ اس کے ایک باب میں دکھایا گیا تھا کہ اخبار نویس جب خبر مرتب کرتا ہے تو اس کی ترتیب کے وقت اس کے سامنے کیا اصول ہوتا ہے ۔ اس اصول کو بتانے کے لئے جرنلزم میں ایک خاص اصطلاح ہے جس کا نام ہے (Inverted Pyramid) یعنی الٹا اہرام ۔ مثال کے طور پر شہر میں ایک عمارت بنتی ہے جس کی ۲۱ منزلیں ہیں ۔ اب اخبار نویس اس کی خبر بنائے گا تو اس کی خبر کا پہلا جملہ ہو گا ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۲۱ منزلہ عمارت تیار ،، ظاہر ہے عمارت کی ۲۱ ویں منزل سب سے آخر میں بنی۔ پہلے منصوبہ بنایا گیا۔ پھر زمین تیار کی گئی۔ بنیاد کھودی گئی۔ نیچے سے تعمیر کرتے کرتے آخر میں اوپر کی منزل کھڑی ہوئی۔ مگر اخباری ترتیب میں سب سے پہلے جو چیز دکھائی دی وہ عمارت کی ۲۱ ویں منزل تھی۔
گویا سائنس میں اگر ریل ویلو (حقیقی قدر) کی اہمیت ہے تو جرنلزم میں نیوز ویلو (اخباری قدر) کی۔ ہماری زندگی کے دو اہم ترین شعبوں میں اس تضاد نے ہماری زندگی کو بالکل برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم سائنس میں جس اصول کو اپنا کر کامیابی حاصل کرتے ہیں ، زندگی میں اس کے برعکس اصول پر عمل کرتے ہیں۔ اسی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ سائنس میں ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے ، زندگی میں ہم وہ کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ سائنس کے ذریعہ ہم ایک اعلیٰ درجہ کا منصوبہ بند شہر بنا لیتے ہیں مگر اسی شہر کے اندر اعلیٰ درجہ کی منصوبہ بند زندگی نہیں بنا پاتے۔ سائنس کے ذریعہ ہم ایسی مشینیں بنا لیتے ہیں جو فنی صحت (Technical Perfection) کی حد تک کام کرتی ہیں۔ مگر انسان کو ایسا نہیں بنا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1983 All issues