Al-Risala · November 1983 · page 2

شماره ۸۴

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲

نماز

قرآن میں ہدایت دی گئی ہے کہ نماز قائم کرو، بے شک نماز فحش اور بری باتوں سے روکتی ہے (اقم الصلوة ان الصلوة تنھی عن الفحشاء والمنكر) ابند ابی حاتم نے حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: من لم تنھہ صلوتہ عن الفحشاء والمنكر جس کی نماز اس کو فحش اور منکر سے نہ روکے تو اس فلا صلوة له کی نماز نماز نہیں۔

نماز کیا ہے، نماز اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آدمی ایک ایسے خدا کے سامنے زندگی گزار رہا ہے جس کو آدمی اگر چہ نہیں دیکھتا، مگر خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ جو آدمی مسجد سے یہ سبق لے کر لوٹے، کیا وہ باہر آکر خدا سے غافل زندگی گزار سکے گا۔ نماز میں آدمی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ خدا سب سے بڑا ہے۔ جو آدمی اس اقرار میں سچا ہو کیسے ممکن ہے کہ نماز کے بعد وہ اپنی بڑائی کا جھنڈا اٹھانے میں مصروف ہو جائے۔ نماز میں آدمی جو کچھ پڑھتا ہے وہ خدا کے سامنے اس بات کا عہد ہوتا ہے کہ وہ خدائی احکام کا پابند بن کر زندگی بسر کرے گا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ باہر نکل کر وہ لوگوں کے درمیان سرکش اور باغی کی طرح رہنے لگے۔ نماز کے افعال اس بات کا اظہار ہیں کہ آدمی کا سینہ خدا کے خوف محبت سے سرشار ہے۔ پھر کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ آدمی مسجد میں تو خدا کے خوف ومحبت سے سرشار ہونے کا دعویٰ کرے اور جب باہر نکلے تو اس طرح رہنے لگے جیسے کہ اس کے سینے میں نہ خدا کا خوف ہے اور نہ خدا کی محبت۔

نماز اگر حقیقی روح کے ساتھ پڑھی جائے تو یقیناً وہ فحشار اور منکر سے روکنے والی بن جائے گی ۔ لیکن اگر نماز حقیقی روح سے خالی ہو تو وہ محض ایک رسم ہو گی جس کا آدمی کی اصل زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ وہ بظاہر نماز ہوگی مگر حقیقۃً وہ نماز نہ ہوگی۔ کیوں کہ وہ آدمی کو فحشار اور منکر سے روکنے والی نہ بن سکی۔

یہ بات ایسی ہی ہے جیسے کہا جائے کہ۔ ۔۔۔۔ باپ کو کھڑا دیکھ کر بھی جو بیٹا لیٹا رہے اس کے اندر باپ کا ادب نہیں۔ بہن کو فاقہ میں دیکھ کر جس بھائی کی مٹھی نہ کھلے وہ بھائی بھائی نہیں۔ دوست کی موت کی خبر جس کا قہقہہ بن نہ کرے اس کی دوستی دوستی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page