حقیقت کی دریافت میں ناکامی
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱
حقیقت کی دریافت میں ناکامی
کارل مارکس (۱۸۸۳- ۱۸۱۸) فطرت سے غیر معمولی صلاحیت لے کر پیدا ہوا۔ جرمنی کی اعلیٰ تعلیم گاہوں میں اس نے ڈاکٹریٹ تک تعلیم حاصل کی۔ وہ آٹھ زبانیں جانتا تھا: یونانی، اطالوی، ہسپانوی، جرمن، انگریزی، فرانسیسی، ڈچ، فریشین۔ آخر عمر میں اس نے روسی زبان سیکھنا شروع کیا۔ مگر تکمیل سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا۔ وہ ساری عمر پڑھتا رہا۔ تاریخ، اقتصادیات اور فلسفے سے لےکر ادب اور مذہب تک کوئی ایسا موضوع نہ تھا جس پر اس نے کافی مطالعہ نہ کیا ہو۔ اس نے لائبریریاں کی لائبریریاں اپنے ذہن میں اتار ڈالیں۔
مارکس کا یقین تھا کہ اس کی غیر معمولی ذہانت اور اس کے بے پناہ مطالعہ نے اس کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ زندگی کے راز کو منکشف کر سکے۔ مارکس کے رفیق خاص فریڈرش اینگلز نے جہاں ہیگل پر تنقید کی ہے، وہ لکھتا ہے:
"اگرچہ ہیگل اپنے وقت کا ایک بہت بڑا انسائیکلو پیڈیا ئی ذہن رکھنے والا آدمی تھا۔ تاہم وہ ایک محدود انسان تھا۔ اس کی محدودیت کی پہلی وجہ اس کی اپنی معلومات کی کمی تھی، دوسری وجہ یہ تھی کہ اس کے زمانے کا علم اور اس وقت کے نظریات بھی محدود تھے، اس کے علاوہ ایک تیسرا سبب بھی تھا، وہ یہ کہ ہیگل ایک عینیت پسند (Idealist) شخص تھا۔ یعنی وہ مادے کے بجائے تصور کو اصل حقیقت سمجھتا تھا"۔
اینگلز نے لکھا ہے کہ ان اسباب کی بنا پر ہیگل کی تفصیلات سب کی سب غلط ہو کر رہ گئیں اور حقیقت کی دریافت میں وہ ناکام رہا۔
اینگلز کی یہ بات جو اس نے ہیگل کے بارے میں لکھی ہے، یہی خود مارکس پر بھی پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ زندگی کے قانون کو اگرچہ تاریخ کا فیصلہ قرار دیتا ہے مگر اس کے باوجود اس کا کہنا ہے کہ اس قانون کو معلوم کر کے اسے استعمال کرنا خود انسان کا اپنا کام ہے۔ اس لئے علاوہ اس کے یہاں بھی قانون ساز خود انسان ہی بن جاتا ہے۔ مارکس جب کہتا ہے کہ زندگی کا قانون خود زندگی کے اندر موجود ہے اس کو خارج میں کہیں سے برآمد کرنے کی ضرورت نہیں تو دراصل وہ اپنے آپ کو ان فلسفیوں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues