حقیقت کی دریافت میں ناکامی
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲
سے الگ کرنا چاہتا ہے جو انسان کو ایک خود مختار مخلوق مان کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان اپنا قانون ساز آپ ہے۔ اس کے برعکس مارکس کا نظریہ یہ ہے کہ جس طرح لوہے اور پتھر کے لئے الگ سے کوئی قانون بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اپنا قانون اپنے ساتھ رکھتے ہیں ٹھیک اسی طرح انسان بھی ایک قانون میں جکڑا ہوا ہے جس کو بنانا نہیں بلکہ دریافت کرنا ہے۔ مگر اس چھپے ہوئے قانون کو دریافت کرنے اور اس کو نافذ کرنے کا کام جب وہ خود انسان کے سپرد کرتا ہے تو ظاہری اختلاف کے باوجود وہ اپنے آپ کو انہیں فلسفیوں کے گروہ میں شامل کر دیتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ انسان خود اپنے لئے قانون بنا سکتا ہے۔ اس لئے وہ تنقید جو قسم اول کے فلسفیوں پر چسپاں ہوتی ہے ٹھیک وہی تنقید خود مارکس پر بھی چسپاں ہو رہی ہے۔ اس اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
اینگلز نے اپنے اس تجزیے میں ہیگل کی ناکامی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اس کا علم محدود تھا کیونکہ ایک شخص خواہ کتنا ہی وسیع مطالعہ رکھتا ہو مگر بہر حال وہ محدود ہی رہے گا۔ دوسرے یہ کہ تحصیں علم کے لئے اس کو جو زمانہ ملا وہ بھی ایسا زمانہ تھا جو اسے زیادہ معلومات نہیں دے سکتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ خود چونکہ ایک خاص طرز فکر رکھتا تھا اس لئے زیادہ وسیع ذہن کے ساتھ نتائج اخذ کرنا اس کے لئے مشکل تھا۔ اگر اینگلز کی اس تشریح کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے نہ صرف ہیگل بلکہ تمام فلسفیوں کے نظریات کی تردید ہو جاتی ہے حتیٰ کہ خود مارکس کے فلسفے کی بھی جس کو اینگلز حقیقت کا صحیح ترین ترجمان مانتا ہے۔
پہلی چیز انسان کا اپنا علم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قانون دریافت کرنے کے لئے جس وسیع علم کی ضرورت ہے اس کے مقابلہ میں انسان کا علم ہمیشہ محدود رہے گا۔ زندگی کے قانون کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان تمام انسانوں کے لئے ہے جو روئے زمین پر بستے ہیں۔ کیا کوئی انسان یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے تمام انسانوں کے جذبات کو پڑھا ہے اور ان کی ضروریات کو معلوم کر لیا ہے۔ آدمی بسا اوقات خود اپنے بارے میں کسی قطعی اور صحیح فیصلہ تک پہنچنے سے قاصر رہتا ہے۔ پھر وہ ان کروڑوں انسانوں کے بارے میں کیا جان سکتا ہے جن کی اس نے شکل تک نہیں دیکھی ، جن کے متعلق وہ کچھ بھی نہیں جانتا۔ زندگی کا مسئلہ ایک نہایت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ جس طرح کسی مشین کا ایک پرزہ درست کرنے کے لئے اس کے تمام پرزوں سے واقفیت ضروری ہوتی ہے اسی طرح انسانی زندگی کے کسی ایک جزو کے لئے بھی وہی شخص قانون بنا سکتا ہے جو پوری زندگی کے مسائل پر عبور حاصل کر چکا ہو۔ کیا انسان اپنی موجودہ عمر اور موجودہ ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔ ایک شخص جو بیک وقت دو خیالات پر غور نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues