Al-Risala · November 1983 · page 14

حقیقت کی دریافت میں ناکامی

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴

خود اس بات کی تردید کر رہا ہے کہ کوئی شخص مستقبل کے بارے میں جان سکتا ہے۔ جب انسانی سماج کسی لگے بندھے ارتقائی نظریے کے مطابق سفر نہیں کر رہا ہے بلکہ بعض اوقات بالکل اچانک اس میں غیر متوقع تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں تو آئندہ کے بارے میں کوئی اصول کس طرح طے کیا جا سکتا ہے۔ پھر کس طرح یقین کیا جائے کہ ماضی کے بارے میں کسی شخص کا تجزیہ لازمی طور پر مستقبل کی بھی صحیح تشریح کرتا ہے۔ جو کچھ وجود میں آ چکا ہے ان کے بارے میں کوئی سر پھرا سب کچھ جاننے کا دعوی کر سکتا ہے۔ مگر جو کچھ ابھی سرے سے وجود میں نہیں آیا، ان کو کون جان سکتا ہے جب کہ مارکسی فلسفہ کے مطابق ان کے لئے کوئی لگات بندھا اصول بھی نہیں ہے۔ جب کہ اکثر اوقات اندازے کے خلاف بھی اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔

اب تیسری حیثیت سے دیکھیے۔ اینگلز کے خیال میں، ہیگل اس لئے حقیقت تک نہ پہنچ سکا کہ وہ "عینیت پسند" تھا۔ ٹھیک یہی بات خود مارکس کے بارے میں کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس لئے حقیقت تک نہیں پہنچ سکا کہ وہ "مادیت پسند" تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ کوئی انسان اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ بالکل تجریدی انداز میں حقائق کا مطالعہ کر سکے۔ ہر شخص کے کچھ مخصوص رجحانات ہوتے ہیں اور آدمی مجبور ہے کہ وہ جب بھی مسائل حیات کا مطالعہ کرے تو ان رجحانات سے مغلوب ہو جائے۔ اس طرح ہر آدمی کا مطالعہ جانبدارانہ مطالعہ بن جاتا ہے اور اس کے فیصلے زندگی کے بے شمار پہلوؤں میں سے کسی ایک پہلو کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں، اس میں ایک فرد کے ذوق کی تسکین ہو سکتی ہے مگر مجموعی طور پر پورے معاشرے کے لئے وہ بالکل ناقابل قبول ہوتے ہیں۔

انسان کی ذاتی کیفیات کس طرح اس کے طرز فکر پر غالب ہو جاتی ہیں اس کی ایک دل چسپ مثال یہ ہے کہ مارکس کی کتاب "سرمایہ" کی پہلی جلد شائع ہو کر جب اینگلز کے ہاتھ میں گئی تو اس نے اس کے پہلے دو ابواب پر جن میں جنس اور زر کا تجزیہ ہے اور جو تمام کتاب میں سب سے زیادہ صبر آزما اوراق سمجھے جاتے ہیں، تبصرہ کرتے ہوئے مارکس کو لکھا:

"کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ ابواب اتنے لمبے ہونے کے بجائے چھوٹے چھوٹے کئی حصوں پر منقسم ہوتے اور ان کو زیادہ عام فہم بنا دیا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ جس زمانہ میں یہ ابواب لکھے جا رہے تھے، تمہیں سرطان کے پھوڑوں نے پریشان کر رکھا تھا۔ تمہارے پھوڑوں کا وہی عذاب ان ابواب میں مقید ہو گیا ہے اور وہی کرب بہ ابواب میں بھی بس گئی ہے۔ "

مارکس نے اس تنقید کی تصدیق کرتے ہوئے جواب دیا:

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page