حقیقت کی دریافت میں ناکامی
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۱۳
کر سکتا۔ اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کروڑوں انسانوں کے لئے قانون بنا سکتا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے حق میں کوئی دلیل نہیں۔ ذہنی صلاحیتیں نورِ کنار کیا چند سال کی یہ محدود عمر کسی کے لئے کافی ہوسکتی ہے کہ وہ زندگی کے مسائل کا جامعیت اور تفصیل کے ساتھ مطالعہ کر سکے۔
مارکس کی زندگی کے آخری ۲۵ سال اس طرح گذرے ہیں کہ لندن میں برٹش میوزیم کے کتب خانہ میں صبح کو وہ سب سے پہلے داخل ہوتا تھا اور شام کو سب سے آخر میں نکلتا تھا۔ مگر اس غیر معمولی جانفشانی کے باوجود اپنی عمر میں وہ اپنی کتاب ”سرمایہ“ کی صرف ایک جلد شائع کر سکا اور بقیہ جلدیں مکمل کرنے سے پہلے ایک روز اپنے مطالعہ کے کمرہ میں آرام کرسی پر بیٹھا بیٹھا انتقال کر گیا۔ اس کی یہ ہور کتاب جو ”محنت کش طبقہ کی بائبل“ کہی جاتی ہے اس کی دوسری اور تیسری جلدیں جن کا مسودہ وہ نا تمام حالت میں چھوڑ گیا تھا اس کو اینگلز اور کا ٹسکی نے بعد کو مکمل کیا اور اس میں۔ بہت دنوں تک کاٹ چھانٹ ہوتی رہی۔ پھر مارکس نے اپنی بہترین کوشش صرف کرنے کے بعد جو نا تمام حاصل مطالعہ چھوڑا ہے اس کا بھی یہ حال ہے کہ اس میں زیادہ تر صرف سرمایہ دارانہ اقتصادیات کی تشریح کی گئی ہے۔ مگر موجودہ نظام کو توڑ کر سوشلٹ اقتصادیات کی تنظیم کس طرح ہوگی، اس پر توجہ دینے کا اسے بہت کم موقع ملا۔ مارکس کی تحریروں میں کہیں بھی اس نظام کی تفصیل نہیں ملتی جو سرمایہ داری نظام کے بعد آئے گا۔ حقیقت یہ کہ انسان کو جو صلاحیتیں دی گئی ہیں اور اس کو دنیا میں کام کرنے کے لئے جتنا وقت ملتا ہے اس کے تحت کوئی بھی انسان خواہ وہ کتنا ہی قابل ہو یہ کام نہیں کر سکتا۔ انسان کے لئے قانون بنانا انسان کے بس سے باہر ہے۔
دوسرے پہلو سے دیکھیے۔ آج جو قانون بنتا ہے وہ کل نا فذ ہوتا ہے۔ مگر انسان کو کل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ آدمی کی معلومات صرف ماضی اور حال کے واقعات تک محدود ہیں جب کہ اسے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ مثال کے طور پر مارکسزم کا سارا انحصار ماضی کے تجزیے پر ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتی ہے اور ہی دیکھ سکتی ہے کہ جو کچھ آج ہے وہ کیوں کرو جود میں آیا اور اس کی نشوونما کس طرح ہوئی اور پھر اس تجزیے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ صادر کر دیتی ہے۔ مارکس اور اس کے متبعین کو اس طریقے کے مکمل ہونے پر اس قدر اصرار ہے گویا انہوں نے آخری سچائی کو پا لیا ہے۔ حالانکہ مارکس کا نظریہ یہ ہے کہ جس طرح تمام موجودات عمل ارتقاءء کے ذریعے وجود میں آتی ہیں اسی طرح انسانی سماج میں بھی ارتقائی عمل ہورہا ہے اور پھر ڈارون کے نظریہ کے برعکس اس کا یہ بھی خیال ہے کہ ارتقا کا یہ سفر لازمی طور پر تدریج اور تسلسل کے ساتھ نہیں ہورہا ہے بلکہ اس میں اچانک خلاف توقع تبدیلی بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہ نظریہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues