Al-Risala · November 1983 · page 28

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸

برآمد ہوئے۔ دھات بجلی کی روشنی میں تبدیل ہوگئی۔ جامد مادہ حرکت بن کر دوڑنے لگا، مادہ شاندار تمدن میں ڈھل گیا وغیرہ۔ مگر اسی اصول کو انسان خود اپنی زندگی میں اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہی تضاد انسان کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ انسان جس سائنس (علم فطرت) کو مکینیکل دنیا میں کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہا ہے اسی سائنس کو وہ انسانی دنیا میں استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ضرورت ہے کہ یہی آفاقی اصول انسانی زندگی میں بھی رائج ہوں۔ انسان بھی سوسائٹی کے اندر اسی طرح عمل کرے کہ ہر ایک اپنے دائرہ میں رہے ، کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ انسان اپنی فطرت میں چھپے ہوئے تعمیری امکانات کو واقعہ بنائے۔ وہ اپنی زندگی کو اس طرح منظم کرے کہ وہ قابل پیشینگوئی کردار کا مالک بن جائے جس طرح بقیہ کائنات قابل پیشینگوئی کردار کی مالک بنی ہوئی ہے۔

یہی انسان کا سب سے بڑا مقصود ہے اور یہی اصلاً تمام مذاہب کا خلاصہ ہے۔ پھر یہی اسلام کا خلاصہ بھی ہے جو آسمانی مذہب کا صحیح اور مستند ایڈیشن ہے۔ اسلا م حقیقۃً اس بات کی دعوت ہے کہ انسان اپنی زندگی کی تعمیر کے لئے کائناتی نظام کو اپنا ماڈل بنائے۔ وہ اسی طرح زندگی گزارے جس طرح بقیہ وسیع کائنات کے تمام اجزاء کا اپنا اپنا وظیفہ پورا کر رہے ہیں۔ طبیعیاتی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا ایک قانون ہے اور وہ انتہائی لزوم کے ساتھ اس پر قائم ہے۔ پروفیسر آئن برگ (لندن) کے الفاظ میں :

”کائنات تعجب خیز حد تک یکساں ہے۔ ہم خواہ کسی طور پر بھی اس کو دیکھیں، کائنات کے اجزاء میں وہی ترکیب اسی تناسب سے پائی جاتی ہے۔ زمین پر جو طبیعیاتی قوانین دریافت کئے گئے ہیں وہ کسی اعداد پر مشتمل ہیں، جیسے کسی الیکٹران کی مقدار مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدار مادہ سے جو کہ تقریباً بہ کے مقابلہ میں ایک ہوتا ہے۔ یہ تناسب ہر جگہ اور ہر وقت پایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر انہیں اعداد کا انتخاب کر رکھا ہے۔ کیا کائنات کے وجود کے لئے ان اعداد میں وہی مناسب تقدیر ضروری ہے جو ہم دیکھتے ہیں ( سنڈے ٹائمز، لندن، ۴ دسمبر، ۱۹۷) یہ سائنس کی زبان میں وہی بات ہے جو قرآن کی زبان میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: خدا نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ پھر ہر چیز کا الگ الگ اندازہ مقرر کیا (الفرقان (۲) قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: کیا وہ خدا کے دین کے سوا اور کوئی دین چاہتے ہیں حالانکہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں اسی کی مطیع ہیں، خوشی سے یا ناخوشی سے۔ اور سب کو آخر کار خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page