Al-Risala · November 1983 · page 29

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹

جس چیز کو سائنس میں قانونِ قدرت کہا جاتا ہے اسیی کا نام ہی نام دین ہے۔ اللہ کا جو دین عملاً زمین و آسمان کی تمام چیزوں پر قائم ہے۔ وہی دین انسان سے بھی مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ بقیہ کائنات اس دین خدا پر جبر کے ذریعہ قائم ہے اور انسان کو یہ دین خود اپنے اختیار سے اپنے اوپر قائم کرنا ہے۔ قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے:

اور خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا۔ ہر ایک معین وقت پر چلتا ہے۔ اللہ معاملہ کی تدبیر کر رہا ہے اور وہ نشانیوں کو بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملاقات کا یقین کرو (الرعد ۲) اس آیت میں تدبیر سے مراد کائنات کا خدائی نظام ہے۔ اور تفصیل آیات سے مراد وہ وحی ہے جو پیغمبروں پر اتری۔ خدا اپنے قانون کو بقیہ دنیا میں براہ راست اپنے نظام کے تحت عملاً قائم کئے ہوئے ہے۔ اسی قانون کو وہ پیغمبروں کے ذریعہ انسان کے پاس بھیجتا ہے تاکہ انسان اپنی آزاد مرضی سے اسی قانون الہی پر عمل کرے۔ گویا آسمانی کتاب (قرآن) جس حقیقتِ ربانی کا لفظی بیان ہے، کائنات اس کا عملی مظاہرہ ہے۔

یہی بات ہے جو حضرت مسیح کی زبان سے انجیل میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ، تو جو آسمان پر ہے، تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی پوری ہو (متی ۶: ۱۰)

اینتون چیخوف (م ۱۹۰۴ء) نے بجا طور پر کہا ہے کہ یہ دنیا بے حد حسین ہے۔ اس میں صرف ایک ہی چیز ہے جو حسین نہیں، اور وہ انسان ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں کوئی چیز کسی چیز کی دشمن نہیں، ایک انسان دوسرے انسان کا دشمن بنتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں بارش برستی ہے تاکہ زمین پر فصل اگے، وہاں آدمی آگ برسا تاہے تاکہ فصلیں تباہ ہوں۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر طرف اصلاح کا منظر دکھائی دیتا ہے، وہاں انسان فساد اور بگاڑ پیدا کرتا ہے۔

دودنیاؤں میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا پوری طرح خالق کے نقشہ کے مطابق چل رہی ہے، وہ ویسے ہی رہنے کے لئے مجبور ہے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ رہے۔ مگر انسان کو اللہ کی طرف سے آزادی ملی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ارادے کے تحت ایک یا دوسرے راستے پر چلنے کا اختیار رکھتا ہے۔ انسانی دنیا میں بگاڑ کی وجہ تمام تر یہی ہے۔ بقیہ دنیا خدا کے نقشہ کی پابند ہے۔ اس لئے وہ مکمل طور پر درست ہے۔ اس کے برعکس انسان خدا کے نقشے سے انحراف کرتا ہے۔ اس لئے اس کے سارے معاملات میں بگاڑ پایا جارہا ہے۔ ہر برائی جو زمین پر پائی جاتی ہے وہ دراصل انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page