Al-Risala · November 1983 · page 30

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰

سائنس کیا ہے؟ سائنس قانون فطرت کا استعمال ہے۔ سائنس مادہ کو تمدن میں تبدیل کرتی ہے۔ اسی طرح مذہب انسانی زندگی کو معیاری سماج میں تبدیل کرنے کا علم ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہب (اسلام) زندگی کی سائنس ہے۔ بقیہ چیزوں میں یہ سائنس مادہ کے جبری قانون کے تحت عمل کرتی ہے۔ اور انسان خود اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو اس قانون فطرت کا پابند بناتا ہے۔ سائنس کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع وہ ہے جس کو قدرت کی نقل کہتے ہیں۔ اس کا مقصد قدرت کے نظاموں کو سمجھ کر ان کی میکینکل نقل کرنا ہے۔ اس سائنسی شاخ کا نام (Bionics) ہے۔ مثلاً کشتی مچھلی کی نقل ہے۔ ہوائی جہاز چڑیا کی نقل ہے۔ کیمرہ آنکھ کی میکینکل نقل ہے۔ کمپیوٹر انسانی دماغ کی میکینکل نقل ہے وغیرہ وغیرہ۔ قدرت کے ماڈل کو ہم اپنی میکینکل دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام کا پیغام یہ ہے کہ قدرت کے اسی ماڈل کو انسانی زندگی کے نظام میں بھی منطبق کیا جائے ۔ کائنات کا جو علم ہمیں جدید شہروں کی تعمیر کا فن بتاتا ہے وہی علم ہمیں سماجی تعمیر کے اصول بھی دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کی تنظیم کے لیے تمام ضروری ماڈل کائنات میں موجود ہیں۔ البتہ چونکہ انسان کو عمل کی آزادی دی گئی ہے اور وہ اس امتحان کی حالت میں ہے کہ وہ اپنی آزادی کو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط۔ اس لیے یہ تمام ماڈل تمثیلی انداز میں قائم کئے گئے ہیں۔ یہاں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ تمثیل کو واقعے کے روپ میں دیکھے ۔ انسان کو یہ ثبوت دینا ہے کہ وہ کائنات میں خالق کے خاموش کلام کو سن سکتا ہے ۔ وہ قدرت کے اشاروں کو الفاظ کا روپ دے سکتا ہے۔ وہ تمثیلی ماڈل کو سمجھ کر اپنی حقیقی زندگی میں عملاً استعمال کر سکتا ہے۔ انسان کو اپنے آزادانہ ارادہ کے تحت وہی کچھ کرنا ہے جو بقیہ چیزیں مجبورانہ نظام کے تحت کر رہی ہیں۔ 1 - اس سلسلہ میں کائناتی ماڈل کی ایک مثال وہ ہے جس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ یعنی کائنات میں بے شمار اجرام (Bodies) ہیں۔ اور سب حرکت کر رہے ہیں۔ مگر سب اپنے اپنے مدار کا پابند ہو کر حرکت کرتے ہیں۔ کوئی اپنے مقرر دائرہ سے باہر نہیں جاتا۔ اسی لئے ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ حتی کہ فلکیات داں کہتے ہیں کہ بعض اوقات ایک پورا کہکشانی نظام اپنے اربوں ستاروں کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے دوسرے کہکشانی نظام میں داخل ہوتا ہے اور اس سے گزر کر باہر نکل جاتا ہے بغیر اس کے کہ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہو۔

یہ ایک ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا سفر اس طرح جاری کرنا چاہئے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔ حتیٰ کہ ایک قوم (انسانوں کا مجموعہ) دوسری قوم

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page