Your freedom ends where my nose begins
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۲
سے قائم کرنا ہے ۔ یہی خدا کا اتارا ہوا مذہب ہے اور یہی اسلام ہے اور اسی میں انسانیت کے تمام مسائل کا حل چھپا ہوا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حکمت اور معنویت کا جو واقعہ وسیع تر کائنات میں خدا اپنے براہِ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لا رہا ہے ، وہی واقعہ انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے بقیہ دنیا میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے ۔ اسی کو انسانی دنیا میں انسان کی سطح پر قائم کرنا ہے ۔
کائناتی سطح پر جو چیز لوہا کی شکل میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر پختہ کرداری کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز پتھریلی زمین سے چشمہ کی صورت میں بہہ نکلتی ہے وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے ۔ کائناتی سطح پر جو چیز قابل پیشین گوئی کردار کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد (وعدہ پورا کرنا) کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز مہک اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر اچھے سلوک اور خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ درخت خراب ہوا (کاربن) کو لے لیتا ہے اور اس کے بدلے اچھی ہوا (آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہی بات انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ جو تمھارے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو، کائنات میں کوئی چیز کسی دوسرے کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا اپنا حصہ ادا کرنے میں مصروف ہے۔ یہی چیز انسانی سطح پر اس طرح مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کرے، منفی نوعیت کی کارروائیوں سے وہ مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ کائنات میں (Recycle) اور (Decompose) کا اصول کارفرما ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لئے گیس میں تبدیل کر دئے جاتے ہیں۔ پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کی خرچ کی ہوئی دولت دوبارہ انسان کے لئے مفید بنے ۔ ایک انسان کی چھڑی ہوئی جدوجہد دوسرے انسانوں کو اچھے پھل کا تحفہ دے۔ کائنات میں عظیم الشان سطح پر بے شمار کام ہو رہے ہیں۔ ہر جزو انتہائی صحت اور پابندی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لگا ہوا ہے۔ مگر کسی کو یہاں کوئی ظاہری بدلہ نہیں ملتا۔ مگر یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگا رہے، بغیر اس کے کہ دنیا میں اس کو اس کے عمل کا کوئی معاوضہ ملنے والا ہو۔ اونچا پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔ یہی چیز
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues