Your freedom ends where my nose begins
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳
انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تواضع اختیار کرے ۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہ کرے ۔ کوئی دوسرے کے مقابلے میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔
اب سوال یہ ہے کہ انسان سے یہ ربانی اخلاقیات کیوں مطلوب ہیں، اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ اس کے لئے خدا نے اپنی کتاب (قرآن) بھیجی اور کائنات میں بہت بڑے پیمانے پر اس کے عملی مظاہرہ کا انتظام کیا تا کہ آدمی خدا کی کتاب میں جس چیز کو پڑھے اس کو عملی نمونہ کی صورت میں اپنے با ہر دیکھ لے اور اس پر عمل کرنا اس کے لئے آسان ہو جائے۔ اس کو سمجھنے کے لئے خدا کی اسکیم کو سمجھنا پڑے گا جس کی خاطر یہ ساری دنیا بنائی گئی ہے۔
خدا نے انسان کے لئے ایک ابدی جنت بنائی جو ہر قسم کی محدودیتوں اور کمیوں سے خالی ہے۔ جہاں انسان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ہر قسم کے دکھ اور تکلیف سے آزاد ہو کر ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندگی گزارے۔ مذکورہ اخلاقیات در اصل اسی جنت کے باسیوں کی اخلاقیات ہیں ، جو لوگ ان اعلیٰ اخلاقیات کا ثبوت دیں گے وہی اس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو جنت کے اعلیٰ ماحول میں بسایا جائے۔ ہر انسان ایک بہتر دنیا کی تلاش میں ہے ، ایک ایسی دنیا جہاں وہ اپنی کمیوں کی تلافی کر سکے جہاں وہ ہر قسم کی خوشیوں اور لذتوں کو ابدی طور پر حاصل کر سکے۔ یہ ہر انسان کا مطلوب ہے۔ مگر ہر انسان اپنے مطلوب کو غلط مقام پر تلاش کر رہا ہے۔ جو چیز موت کے بعد کی زندگی میں رکھی گئی ہے اس کو وہ موت سے پہلے کی زندگی میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایک کسان اگر اپنے لئے کوئی فصل اگانا چاہتا ہے تو وہ کائنات کے انتظام سے مطابقت کر کے ہی ایسا کر سکتا ہے۔ ایک انجینئر اگر ایک کارخانہ بنانا چاہتا ہے تو وہ اپنے منصوبے میں اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ وہ قوانین فطرت کو جان کر اسے استعمال کرے۔ ایسا ہی معاملہ انسانی زندگی کی تعمیر کا بھی ہے۔ انسان اگر اپنے لئے ایک پر مسرت اور کامیاب زندگی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو وہ خدائی اسکیم سے مطابقت کر کے ہی اپنے لئے پا سکتا ہے۔ خدا کی اسکیم یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی جنتی کردار کا ثبوت دے تا کہ اس کو مستقل طور پر جنت کی حسین اور لذیذ دنیا میں بسایا جائے۔ جو چیز آج ہے وہ کل نہیں مل سکتی ۔ اور جو چیز کل ملنے والی ہے اس کو آج پانے کی کوشش کرنا بے سود ہے۔ انھیں دو لفظوں میں زندگی کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔
نوٹ : یہ اس انگریزی مقالہ کا اردو ترجمہ ہے جو کریم بین اسلامک کانفرنس ( بار بیڈوز ) میں ۲ اپریل ۱۹۸۳ کو پڑھا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues